رسائی کے لنکس

چھوٹے کاروباروں کی ترقی کے لیے اوباما انتظامیہ کا نیا منصوبہ


چھوٹے کاروباروں کی ترقی کے لیے اوباما انتظامیہ کا نیا منصوبہ

چھوٹے کاروباروں کی ترقی کے لیے اوباما انتظامیہ کا نیا منصوبہ


صدر اوباما نے منگل کو نیو ہیمپشائر میں ایک خطاب کے دوران چھوٹےکاروباروں کے لیے قرضوں کے ایک منصوبے کا اعلان کیا، جس کے ذریعے نئی ملازمتیں بھی پیدا کی جا سکیں گی۔ صدر نے ملک کی دونوں جماعتوں سے مل کر کام کرنے پر بھی زور دیا تاکہ ان کی انتظامیہ کو ملک میں جاری معاشرتی اور معاشی بحران پانے میں مدد مل سکے۔ اپنے خطاب میں صدر اوباما نے چھوٹے کاروباروں کے لیے آسان قرضوں کی پرزور حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے چھوٹے کاروباروں کو قرضوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ اسی لیے میں آج چھوٹے کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے 30 ارب ڈالر کے ایک منصوبے کا اعلان کر رہا ہوں۔ یہ رقم وال سٹریٹ کے ان بینکوں نے واپس کی ہے جو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ اس فنڈسے عام بینکوں کو بھی مدد ملے گی۔
صد اوباما نے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کو اپنی انتظامیہ کی ایک اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے دونوں پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ کانگریس میں ان کی کوششوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک پہلو پر دو مختلف اور مخلصانہ آرا رکھنا درست اقدام ہے۔ لیکن ملک کو جس مسائل کا سامنا ہے، آپ اسے سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے۔ ہم اس چیز کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

منگل کو ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں صدر اوبا کے 38 کھرب ڈالر کے بجٹ پر دونوں پارٹیوں میں نظریاتی اختلاف واضح رہا۔ ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر چک گریسلی نے کہا کہ مجوزہ بجٹ تسلی بخش نہیں ہے اور انکی پارٹی متمول شہریوں پر ٹیکس میں اضافے کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی پر ، ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ نہ کرنے پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہی تنقیداوباما انتظامیہ پر بھی کی جاسکتی ہے کہ اس وقت عارضی بنیادوں پر جو رقوم صرف کی جارہی ہیں، مستقبل میں ان کے اثرات توقع سے کہیں زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میسا چوسیٹس میں سینیٹ کی اہم سیٹ گنوانے کے بعد صدر اوباما نے بہت عوامی انداز اپنا لیا ہے۔ بل کی منظوری کے لیے درکار اکثریت نہ ہونے کے باوجود صدر اوباما نے سینیٹ سے صحت کی دیکھ بھال کی اصلاحات کا بل پاس کرانے کا بھی اعادہ کیا ہے اور کانگریس کے اراکین پر زور دیا ہے کہ وہ الیکشن کے بارے میں پریشان ہونے کی بجائے متوسط طبقے کے مسائل پو توجہ دیں۔

XS
SM
MD
LG