رسائی کے لنکس

ایک تفتیشی افسر بریگیڈیئر جنرل برائن واٹس نے اس تاثر کی صریحاً نفی کی ہے کہ متعلقہ فوجیوں کے اقدام کا مقصد قرآن کی بے حرمتی اور اسلام کی توہین کرنا تھا۔

افغانستان میں رواں سال پیش آنے والے دو مختلف واقعات میں ملوث نو امریکی فوجیوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی ہے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ تحقیقات سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ’’غلط بیانی، ناقص رہنمائی اور فوجیوں کی طرف سے صحیح طریقے کے انتخاب کی بجائے آسان طریقہ اپنایا گیا‘‘ جس کے نتیجے میں 300 سے زائد قرآن اور دیگر مقدس مواد کو نذر آتش کیا گیا۔

انضباطی کارروائی میں عہدوں میں تنزلی یا تنخواہ کی ضبطگی سمیت ایسی ہی انتظامی سزائیں شامل ہیں۔ لیکن حکام نے ان فوجیوں کو دی جانے والی سزاؤں کی تفصیل فراہم نہیں کی۔

رواں سال کے اوائل میں امریکہ کے زیرِ انتظام بگرام اڈے پر قرآن کے نسخے نذر آتش کیے گئے جب کہ ایک ویڈیو میں امریکی فوجیوں کو لاشوں کی بے حرمتی کرتے دکھایا گیا تھا۔

ان واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد افغانستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جو بعد میں پرتشدد رنگ اختیار کرتے ہوئے بہت سی جانوں کے ضیاع کا سبب بنے۔

امریکی عسکری قائدین نے ان دونوں واقعات کی سختی سے مذمت کی تھی۔

ایک تفتیشی افسر بریگیڈیئر جنرل برائن واٹس نے اس تاثر کی صریحاً نفی کی ہے کہ متعلقہ فوجیوں کے اقدام کا مقصد قرآن کی بے حرمتی اور اسلام کی توہین کرنا تھا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے رواں سال کے اوائل میں ویڈیو میں دکھائے گئے فعل کو ’’غیر انسانی‘‘ قرار دیتے ہوئے ملزمان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG