رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں صومالیہ کا سفارت خانہ دوبارہ کھل گیا


فائل

فائل

اس موقعے پر، صومالی وزیر خارجہ نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ سفارت خانے کے دوبارہ کھلنے سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ اُن کا ملک برسوں کی تنہائی سے باہر نکل آیا ہے

تقریباً 25 برس بعد، صومالیہ نے امریکہ میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔

اس سلسلے میں بدھ کو واشنگٹن میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں حکومتِ صومالیہ نے اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا۔ تقریب میں امریکی معاون وزیر مملکت برائے افریقی امور، لِنڈا تھامس گرین فیلڈ اور صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام عمر نے شرکت کی۔

عمر نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ سفارت خانے کے دوبارہ کھلنے سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ اُن کا ملک برسوں کی تنہائی سے باہر نکل آیا ہے۔
وزیر خارجہ کے بقول، ’یہ بہت ہی اہم بات ہے۔ یہ صومالیہ کی حالیہ تاریخ کا ایک اہم دن ہے، جس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ ہم تاریکی سے باہر نکل آئے ہیں۔ ہم اس دنیا کا حصہ ہیں۔ ہم واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہیں، جہاں اہم فیصلے ہوتے ہیں، مسائل حل ہوتے ہیں اور ہم دوستوں کے حلقے میں ہیں۔ یہاں کانگریس کے رُکن کیتھ ایلسن ، معاون وزیر مملکت برائے افریقی امور موجود ہیں۔ ہم اپنے ساتھیوں، بھائیوں، احباب اور امریکہ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہیں۔ اور صومالیہ کبھی ختم نہیں ہوگا‘۔

تھومس گرین فیلڈ نے اس بات کی توثیق کی کہ امریکہ حکومت صومالیہ کے ساتھ کام کرتا رہے گا، تاکہ صومالیہ کی صورت حال میں بہتری لائی جائے، جہاں دو عشروں سے زیادہ عرصے سے تنازعہ جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG