رسائی کے لنکس

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر بھیجے جانے والے اس پہلے خلائی جہاز کی پرواز ملتوی کردی گئی ہے جسے نجی شعبے نے تیار کیاتھا اور اسے چلانے کا انتظام بھی انہی کے پاس تھا۔

کیلی فورنیا میں قائم پرائیویٹ خلائی کمپنی ’سپیس ایکسپلوریشن ٹیکنالوجیز ‘ نے جو ’ سپیس ایکس ‘ کے نام سے موسوم ہے ، منگل کو یہ اعلان کیا کہ وہ 30 اپریل کی اپنی مجوزہ خلائی پرواز کو ایک ہفتہ آگے بڑھا رہی ہے اور اب ان کا خلائی جہاز 7 مئی کو اپنے سفر پر روانہ ہوگا۔

سپیس ایکس کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ خلائی راکٹ کی جانچ پڑتال اور اس کے ڈیٹا پر نظر ثانی کا عمل مکمل کرنے کے لیے ماہرین کو مزید کچھ وقت کی ضرورت ہے۔

سپیس ایکس کے خلائی جہازپر کوئی خلاباز نہیں ہوگا ۔ اس خلائی جہاز کو اس طریقے سے بنایا گیا ہے کہ اسے دوبارہ بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

اپنے اس پہلے خلائی سفر میں سپیس ایکس کا خلائی کیپسول خلائی اسٹیشن اور وہاں کے چھ ارکان پر مشتمل عملے کے لیے اپنے ساتھ 500 کلوگرام سامان لے جارہاہے۔

خلائی جہاز کو فلوریڈا میں واقع امریکی فضائیہ کے مرکز کیپ کیناویرل سے روانہ کیا جائے گا۔

راکٹ ’ ڈریگن ‘ کے خلائی اسٹیشن کے قریب پہنچنے کے بعد وہاں موجود خلائی عملہ سامان اتارنے کے لیے لمبے بازو والے ایک روبوٹ کی مدد سے اسے اسٹیشن کے بیرونی حصے کے ساتھ جوڑ دیں گے ۔

خلائی جہاز ’ڈریگن ‘ وہاں تین ہفتے قیام کرے گا جس کے بعد اسے سامان پر بھر کر زمینی مرکز کی جانب اپنے واپسی کے سفر پر روانہ کردیا جائے گا۔

سپیس ایکس پہلی ایسی پرائیویٹ کمپنی ہے جس کا خلائی جہاز دسمبر2010ء میں زمین کے مدار میں کامیابی سے پرواز کے بعد بحفاظت زمین پر اتر گیاتھا۔ ناسا کے خلائی سفر کے پروگراموں کے خاتمے کے بعد یہ کمپنی خلائی اسٹیشن تک پروازوں کے لیے اس کی جگہ لینے کی تیاری کررہی ہے۔

XS
SM
MD
LG