رسائی کے لنکس

’خلائی تسخیر‘ کے موضوع پر پہلا بین الاقوامی اجلاس


واشنگٹن میں ہونے والے اس اجلاس میں 30 سے زائد ممالک کے اہل کار، جِن میں چین، روس، بھارت اور یورپی یونین کے ممالک شریک ہوئے، جنھوں نے مستقبل کی خلائی تسخیر، روبوٹس کی تیاری، اور زمین کے مدار سے اوپر تک انسانی رسائی کے موضوعات پر غور و خوض ہوا

امریکہ کا کہنا ہے کہ خلائی تعاون کے سلسلے میں حمایت کے حصول کے لیے، بقول اُس کے، پہلی بار وزارتی سطح کے ایک اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔

اِس اجلاس میں 30 سے زائد ممالک کے اہل کار، جِن میں چین، روس، بھارت اور یورپی یونین کے ممالک شامل ہیں، جمعرات کے دِن واشنگٹن میں اکٹھے ہوئے اور مستقبل کی خلائی تسخیر، روبوٹس کی تیاری کی مدد سے خلائی تسخیر کا معاملہ اور زمین کے مدار سے اوپر تک انسانی رسائی کے موضوعات پر غور و خوض ہوا۔

امریکہ کے معاون وزیرِ مملکت، ولیم برنز نے اس موقعے پر خلائی تسخیر کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔ اُنھوں نے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، مثال کے طور پر زمین پر گِرنے والی اشیا اور خلائی ملبہ جس کے دفاع کی تدابیر اختیار کرنا شامل ہے۔

برنز کے بقول، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے امریکہ اقوام متحدہ کی خلا کے پُرامن استعمال سے متعلق کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ اور یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر خلا ئی کارروائیوں کے بارے میں، ہم ایک بین الاقوامی ضابطہٴ اخلاق تشکیل دینے کے لیے کام کریں گے۔

جان ہولڈرن، وائٹ ہاؤس کے سائنس اور ٹیکنالوجی پالیسی کے دفتر کے سربراہ ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ایک ایسا معاملہ ہے جو مل کر کام کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

اُن کے الفاظ میں، ہمارے خلائی لباس اور ثقافتوں کے پرچم تو مختلف ہو سکتے ہیں، روایتیں اور سیاسی نظام میں بھی فرق ہوسکتا ہے، لیکن، جیسا کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی کامیابی نے ثابت کردیا ہے، خلا میں ہم اِن سارے اختلافات سے ماورا ہو سکتے ہیں۔

خلا ئی تسخیر کے میدن میں گذشتہ سال کئی اہم سنگِ میل حاصل ہوئے، جِن میں چین کا چاند پر اترنے میں کامیاب ہونا اور اس کے ساتھ تیسرا ملک بن کر ابھرنا، بھارت کا مریخ کے مدار کی طرف اپنا مشن روانہ کرنا، اور امریکہ کا ’وائیجر ون‘ انسان کا تیار کردہ پہلی چیز ثابت ہوئی جو نظامِ شمسی سے پرے، بلندی کی دنیا کی طرف روانہ کی گئی۔
XS
SM
MD
LG