رسائی کے لنکس

خلائی شٹل اینڈور ، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ گئی


خلائی شٹل اینڈور ، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ گئی

امریکی خلائی شٹل اینڈور زمین کے مدار میں موجود بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچ گئی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسانے بدھ کے روز بتایا کہ خلائی شٹل بحفاظت خلائی اسٹیشن سے منسلک ہوگئی۔

شٹل اور خلائی اسٹیشن کے آپس میں جڑنے کےبعد درمیانی کھڑکی کھولی گئی اور خلائی اسٹیشن کے عملے نے خلائی جہاز کے عملے کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا ۔ اب خلاباز اپنے مشن کا آغاز کررہے ہیں۔ ان کے مشن میں چار خلائی چہل قدمیاں بھی شامل ہیں جن کا آغاز جمعے کے روز سے ہوگا۔
خلائی شٹل کا انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن پر ڈاکنگ کا منظر

خلائی شٹل کا انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن پر ڈاکنگ کا منظر

خلائی شٹل اینڈور کا یہ اپنا آخری خلائی سفر ہے۔ اس کے بعد اسے ریٹائرکرکے ایک نمائش میں رکھ دیا جائے گا۔

ناسا کے ایک عہدےد ار بل گرسٹین مائر نے کہاہے کہ اینڈور کے ذریعے جانے والے خلابازوں کی خلائی چہل قدمی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

اینڈور کے ذریعے دو ارب ڈالر مالیت کا ایک سائنسی آلہ’ پارٹیکل ڈی ٹیکٹر ‘ خلائی اسٹیشن پر پہنچایا گیا ہے۔ جسے خلاباز وہاں نصب کریں گے۔ اس قیمتی آلے کے ذریعے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کائنات کس طرح وجود میں آئی تھی۔

اینڈور پیر کے روز امریکی ریاست فلوریڈا کے خلائی مرکز کینڈی سپیس سینٹر سے چھ خلابازوں کو لے کرروانہ ہوئی تھی۔ خلابازوں میں پانچ امریکی ایک اطالوی ہے۔

اینڈور کو 1992ء میں ناسا کے خلائی بیٹرے میں شامل کیا گیاتھا۔ اور وہ اس بیٹرے کا سب سے کم عمر خلائی جہاز ہے۔ناساکے پاس اب تین خلائی جہاز باقی رہ گئے ہیں۔

ناسا اس سال اپنی خلائی پروازیں بند کررہاہے۔ اینڈور کی یہ آخری پرواز تھی اور اس کے بعد جولائی میں اٹلانٹس اپنے آخری سفر کے لیے روانہ ہوگی۔ جب کہ خلائی شٹل ڈسکوری اپنا آخری سفر مارچ میں مکمل کرچکی ہے۔

ناسا بھاری اخراجات کے باعث اپنی خلائی پروازیں بند کررہا ہے اور اب وہ ایسے خلائی جہازوں کی طیاری پر توجہ دے گا جو کم خرچ اور تیز رفتار ہوں گے۔

امریکی خلائی پروازیں بند ہوجانے کے بعد امریکی خلاباز ، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر جانے کے لیے روسی خلائی جہاز استعمال کریں گے۔

کئی پرائیویٹ امریکی کمپنیاں خلابازوں کو خلائی سفر کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی جہاز بنانے کی کوشش کررہی ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ برسوں میں ایسے کئی جہاز استعمال کے لیے دستیاب ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG