رسائی کے لنکس

امریکہ نے پاکستان میں صحت عامہ کے شعبے میں 2002ء سے اب تک 32 کروڑ ڈالرز کی اعانت فراہم کی ہے جس کے تحت کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر میں امراض نسواں کا ایک وارڈ بھی قائم کیا گیا۔

پاکستان میں صحت عامہ کے شعبے میں امریکی تعاون جاری ہے اور اب تک لاکھوں ڈالر اعانت سے غیر مراعات یافتہ طبقے کے ہزاروں افراد خصوصاً خواتین کو معیاری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

اسلام آباد میں تعینات امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن نے بدھ کو ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ان کے ملک کی مدد سے پاکستان میں صحت عامہ کے شعبے میں بہتری آئی ہے اور خصوصاً زچہ و بچہ کو فراہم کی جانے طبی سہولتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ’’یو ایس ایڈ‘‘ نے جون 2013 میں ماں اور بچے کی صحت کے لیے ایک بنیادی پروگرام شروع کیا جس کا مقصد خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو صحت عامہ کی سہولتوں میں بہتری، غیر مراعات یافتہ طبقے اور دو دراز آبادیوں کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی ہے۔

امریکی سفارتخانے سے جاری ایک بیان کے مطابق امریکہ نے پاکستان میں صحت عامہ کے شعبے میں 2002ء سے اب تک 32 کروڑ ڈالرز کی اعانت فراہم کی ہے جس کے تحت کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر میں امراض نسواں کا ایک وارڈ بھی قائم کیا گیا۔

اس سہولت سے ایک لاکھ چالیس ہزار خواتین کو علاج کے علاوہ طب سے وابستہ 13 ہزار افراد کو تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

امریکہ جیکب آباد میں ایک اسپتال کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی مالی امداد بھی فراہم کر رہا ہے جس سے شمالی سندھ، جنوبی پنجاب اور مشرقی بلوچستان کے بارہ لاکھ رہائشیوں کو علاج معالجے کی سہولتیں میسر آسکیں گی۔

امریکی سفیر اولسن کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے اشتراک کی بدولت اب زیادہ خواتین کو دوران زچگی علاج کی سہولتیں میسر ہیں اور زیادہ تر پیدائش تربیت یافتہ عملے کی زیر نگرانی مراکز صحت میں ہو رہی ہیں۔

یہ تقریب پاکستان کے قومی ادارہ برائے علم آبادیات کے زیر اہتمام سماجی اعدادو شمار اور صحت عامہ سے متعلق سال 2012 اور 2013 کی جائزہ رپورٹ کے اجرا کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

صحت عامہ اور آبادی سے متعلق قابل اعتماد اعداد و شمار منصوبہ بندی اور نگرانی سمیت دیگر جائزہ پروگراموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور وزیرمملکت برائے قومی ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ نے بھی شرکت کی۔

جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق معمولی بہتری تو دیکھنے میں آئی ہے لیکن اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حکومت صحت عامہ اور خاندانی منصوبہ بندی کو ترجیحات میں شامل کرے۔
XS
SM
MD
LG