رسائی کے لنکس

امریکہ کرغزستان کی عبوری حکومت کی مدد کرے گا: رابرٹ بلیک


امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک اور قرغزستان کی عبوری حکومت کی راہنما روزا اوتن بایفا

امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک اور قرغزستان کی عبوری حکومت کی راہنما روزا اوتن بایفا

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ کرغزستان کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے تیار ہے ،جس نے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں ملک کے صدر کی برطرفی کے بعد اقتدار سنبھالا ہے۔ ان مظاہروں میں 84 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جنوبی اور وسطی ایشیائی امور سے متعلق امریکی معاون وزیر خارجہ رابرٹ بلیک نے کہاہے کہ امریکہ، آئین دوبارہ تحریر کرنے اور پارلیمانی انتخابات کرانے کے عبوری حکومت کے نصب العین کی حمایت کرے گا۔ مسٹر بلیک نے بدھ کے روز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں عبوری حکومت کی راہنما روزا اوتن بایفا سے ملاقات کی۔

اسی اثنا میں روس نے کہا ہے کہ وہ کرغزستان کو گرانٹ اور قرضوں کی شکل میں پانچ کروڑ ڈالر مہیا کرے گا۔ روس کے وزیر خارجہ الیکسی کوڈرین نے یہ وعدہ کرغزستان کے عبوری نائب وزیر اعظم الماس بیگ اتم بایف کی مذاکرات کے لیے ماسکو روانگی پر کیا ۔

عبوری حکومت کی راہنما اوتن بایفا نے بدھ کے روز کہا کہ ایک بین الاقوامی ٹربیونل میں برطرف صدر قربان بیگ باقی یف کو ان کے اقدامات کا ذمہ دار ٹہرانا چاہیے اور انہیں ملک چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مسٹر باقی یف سے بات چیت کے امکان کو رد نہیں کررہیں۔

مسٹر باقی یف نے عبوری حکومت کی جانب سے اپنی اور اپنے خاندان کی سلامتی اور ان کی جائیداد ضبط نہ کرنے کی ضمانت فراہم کرنے کی شکل میں ریٹائر ہونے کی پیش کش کی ہے۔



XS
SM
MD
LG