رسائی کے لنکس

عدالتِ عظمیٰ کی ’سیمی آٹومیٹک‘ اسلحے پر عائد بندش جائز قرار


فائل

فائل

اسلحے کے حامیوں نے کنیٹی کٹ اور نیو یارک میں حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے پر عائد کردہ فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ تاہم، عدالت نے پیر کے روز اس استدعا کی سماعت سے انکار کیا

امریکی عدالتِ عظمیٰ نے حملے کی غرض سے استعمال ہونے والی کچھ نیم خودخودکار رائفلوں پر بندش کے معاملے پر دو ریاستوں کی جانب سے دائر کردہ نظر ثانی کی استدعا کو مسترد کردیا ہے۔

اسلحے کے حامیوں نے کنیٹی کٹ اور نیو یارک میں حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے پر عائد کردہ فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ تاہم، عدالت نے پیر کے روز اس استدعا کی سماعت سے انکار کیا۔

بندش کی منظوری اُس وقت دی گئی جب 2012ء میں کنیٹی کٹ کے شہر، نیوٹاؤن کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں ہونے والے شوٹنگ کے واقعے میں مسلح شخص نے ’ اے آر 15 رائفل‘ استعمال کی تھی، جِس کے نتیجے میں 20 بچے اور چھ استاد ہلاک ہوئے۔

سات ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی نے حملے کے لیے استعمال ہونے والے اسلحے پر بندش سے متعلق قانون سازی کی ہے۔ وفاقی قانون کے مطابق، پہلے ہی خودکار اسلحے پر پابندی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں فلوریڈا کے شہر، اورلینڈو کے گے نائٹ کلب پر حملے کے بعد، جس میں مسلح شخص سیمت 50 افراد ہلاک ہوئے، اسلحہ رکھنے کے حقوق سے متعلق مباحثہ چھڑ گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG