رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ نے اوباما کا کاربن گیس کے اخراج میں کمی کا منصوبہ معطل کردیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے سپریم کورٹ کے اقدام کو ان لوگوں کے لیے "بڑی کامیابی" قرار دیا جنہیں اپنی ملازمتیں کھو دینے یا پھر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ لاحق تھا۔

امریکہ کی عدالت عظمیٰ نے صدر براک اوباما کے اس منصوبے کو معطل کر دیا ہے جس کے تحت ملک میں بجلی گھروں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں کمی کرنے کا کہا گیا تھا۔

ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ اگست میں صدر اوباما نے قواعد و ضوابط کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام ریاستوں کے پاس ستمبر 2016ء کا وقت ہے کہ وہ زہریلی گیس کے اخراج کو 32 فیصد تک کم کرنے کے لیے اپنا اپنا منصوبہ پیش کریں۔

لیکن 27 ریاستوں کے ایک گروپ نے صاف توانائی کے منصوبے پر پس و پیش سے کام لیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔ ان کا موقف تھا کہ ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس سے کاروبار کو غیر ضروری نقصان پہنچے گا اور روزگار متاثر ہوگا۔

سریم کورٹ نے منگل کو جاری کیے گئے فیصلے میں کہا کہ نئے رہنما اصول معطل کیے جاتے ہیں تاوقتیکہ قانونی معاملات حل نہیں ہو جاتے۔

ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی کورٹ آف اپیلز مقدمے میں دلائل کی سماعت جون میں کرے گی جس کے بعد ہی سپریم کورٹ اس معاملے پر اپنی کارروائی مکمل کرے گی۔

ٹیکساس اور مغربی ورجینیا کاربن ڈائی آکسائیڈ کا سب سے زیادہ اخراج کرنے والی دو بڑی ریاستیں ہیں اور وہی اس قانونی جنگ کی قیادت کر رہی ہیں۔

ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے سپریم کورٹ کے اقدام کو ان لوگوں کے لیے "بڑی کامیابی" قرار دیا جنہیں اپنی ملازمتیں کھو دینے یا پھر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ لاحق تھا۔

پیکسٹن کا کہنا تھا کہ "اس منصوبے کو نافذ کرکے اوباما انتظامیہ نے واضح طور پر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس سے ٹیکس دہندگان پر بوجھ اور ناکافی خدمات کے لیے صارفین کو اپنا زیادہ سرمایہ خرچ کرنا پڑ سکتا تھا۔"

مغربی ورجینیا کے اٹارنی جنرل پیٹرک مورسی نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ ملازمین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ "بے شمار ڈالر بچائے" گا۔

وائٹ ہاؤس نے اگست میں کہا تھا کہ اس منصوبے کے تحت اندازہ ہے کہ 2030ء تک صارفین کو بجلی کے بلوں میں سالانہ 85 ڈالر کی بچت ہوگی۔ زہریلی گیس کے اخراج کو کم کرنے کے پروگرام سے متبادل ذرائع یعنی ہوا اور سورج سے حاصل ہونے والی توانائی کی مقدار میں بھی اضافہ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ عدالتی فیصلے سے متفق نہیں اور انھیں یقین ہے کہ قانونی جنگ میں ان کا موقف غالب آئے گا۔

XS
SM
MD
LG