رسائی کے لنکس

اعلیٰ جج کی نامزدگی، اوباما اور ریپبلیکن قانون سازوں کی ملاقات


سترہ جون، 1986ء، صدر ریگن جج اسکالیا کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے (فائل)

سترہ جون، 1986ء، صدر ریگن جج اسکالیا کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے (فائل)

وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اُسے ’’ہنگامہ خیز سیاست‘‘ کے حوالے نہ کیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب تک ریپبلیکنز اپنی پوزیشن پر قائم ہیں، اوباما کے لیے اُنھیں ’’تعمیری طور پر اپنے ساتھ ملانے میں‘‘ مشکل پیش آئے گی

امریکی صدر براک اوباما اور ریپبلیکن پارٹی کے کلیدی سینیٹروں نے منگل کے روز بات چیت کی، جس کا مقصد عدالت عظمیٰ کے عہدے کو پُر کرنے کےتنازع کا حل تلاش کرنا تھا، جو جسٹس انٹونن سکالیا کے اچانک انتقال کے باعث پیدا ہوا ہے۔

یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔ گفتگو سے پہلے دونوں فریق نے بیان دینے سے احتراز کیا۔

اوباما نے اوول آفس میں سینیٹ کے اکثریتی قائد مِچ میکونیل اور قائمہ کمیٹی برائے عدالت کے سربراہ چَک گریزلی سے مشاورت کی۔
ملاقات میں صدر کے ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھی نائب صدر جو بائیڈن، سینیٹ میں اقلیتی پارٹی کے قائد ہیری ریڈ اور سینیٹر پیٹرک لیہی بھی شریک تھے۔

اِس بارے میں کہ عہدے کو پُر کرنے کےلیے نام کون دے گا، دونوں فریق میں دوریاں واضح ہیں، جو ملاقات کے لیے اوول آفس جاتے ہوئے نمایاں تھی۔ نئے جج کے شامل ہونے سے عدالت کا جھکاؤ بائیں بازو کی جانب ہوسکتا ہے۔

صدر کے خیال میں عدالت عظمیٰ کے لیے جج کی نامزدگی اُن کا آئینی اختیار ہے جب کہ ریپبلیکن کنٹرول والا سینیٹ اُن کی نامزدگی کی توثیق کرے گا۔ ریپبلیکن پارٹی کے قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ صدر کی نامزدگی کو منظور نہیں کریں گے۔

ریپبلیکنز نے یہ دلیل دی ہے کہ اپنے عہدے کے آخری سال کے دوران صدر کو جج کی عمر بھر کی تقرری نہیں کرنی چاہیئے، برعکس اس کے وہ اس کام کو آنے والے صدر کے لیے چھوڑ دیں، جن کا انتخاب نومبر میں ہونے والا ہے۔

پیر کے روز سینیٹ کے ایوان میں، گریزلی نے اوباما پر ’’حکومت کی ایک شاخ کو یرغمال بنانے کی غیرمعمولی کوشش کرنے‘‘ کا الزام لگایا۔

وائٹ ہاؤس بریفنگ کے دوران، پیر کے روز ترجمان جوش ارنیسٹ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اُسے ’’ہنگامہ خیز سیاست‘‘ کے حوالے نہ کیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب تک ریپبلیکنز اپنی پوزیشن پر قائم ہیں، اوباما کے لیے اُنھیں ’’تعمیری طور پر اپنے ساتھ ملانے میں‘‘ مشکل پیش آئے گی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر نے ممکنہ نامزدگی کا جائزہ لینے میں کافی وقت صرف کیا ہے۔ لیکن، ابھی تک ممکنہ امیدواروں کی فہرست تیار نہیں ہوئی۔ انتظامی عہدے داروں نے توجہ دلائی ہے کہ عدالت عظمیٰ کی پچھلی تعیناتی کے دوران صدر اوباما نے نئی نامزدگی کرنے میں تقریباً 30 دِن لگائے تھے۔

XS
SM
MD
LG