رسائی کے لنکس

ٹیلی فون ریکارڈ: ’گارڈین‘ نے اطلاع دینے والے کی شناخت ظاہر کردی


ریاست میری لینڈ میں واقع ’این ایس اے‘ کا کیمپس

ریاست میری لینڈ میں واقع ’این ایس اے‘ کا کیمپس

امریکی عہدے دار اِن رپورٹوں کو رد نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ، ’کوئی بھی کسی کی ٹیلی فون کالز نہیں سنتا‘، اور یہ کہ ’اکٹھا کیا جانے والا ڈیٹا متعدد دہشت گرد سازشیں ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے‘

برطانوی اخبار ’دِی گارجین‘ نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی سےتعلق رکھنے والے ایک کنٹریکٹ ملازم کی شناخت ظاہر کردی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اُس اطلاع کا ذریعہ بنے کہ یہ سراغ رساں ادارہ امریکیوں کے فون کالز کی نگرانی کر رہا ہے۔

انتیس برس کے ایڈورڈ سنوڈن نے ’دِی گارجین‘سے مطالبہ کیا تھا کہ اِس اطلاع کے ذریعے کے طور پر اُن کا نام ظاہر کیا جائے۔

اُنھوں نے اخبار کو بتایا کہ اُنھیں چُھپنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ اُنھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

سنوڈن گذشتہ ماہ امریکہ سے ہانگ کانگ چلے گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں پتا ہے کہ اُن کی اِس حرکت کے باعث اُنھیں نقصان ہوگا۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ سچ کو ظاہر کرنےکی خاطر وہ اپنی ’بہت ہی آرامدہ زندگی‘ قربان کرسکتے ہیں۔ اُنھوں نے چوکسی رکھنے کے اس نظام کو امریکہ میں بننے والا ایک ’بہت ہی بڑا ادارہ‘ قرار دیا۔

’دِی گارجین‘ نے گذشتہ ماہ خبر شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی لاکھوں امریکیوں کا ٹیلی فون ریکارڈ حاصل کرتی ہے۔

اس اخبار کے ساتھ ساتھ ’دِی واشنگٹن پوسٹ‘ نے بھی خبر دی تھی کہ ’پرزم‘ نامی ایک اور پروگرام کے تحت، این ایس اے اور ایف بی آئی کو کلیدی ’انٹرنیٹ پرووائڈرز‘ کے سرورز تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔

امریکی عہدے دار اِن رپورٹوں کو رد نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کسی کی ٹیلی فون کالز کو نہیں سنتا، اور یہ کہ، اُن کی طرف سےاکٹھا کیا جانے والا ڈیٹا متعدد دہشت گرد سازشیں ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG