رسائی کے لنکس

امریکہ حوالگی کی کوششوں کا مقابلہ کروں گا: سنوڈن


ہانگ کانگ اور امریکہ کے درمیان حوالگی کا معاہدہ موجود ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ہانگ کانگ چند بھگوڑوں کو امریکی حکومت کے حوالے کر چکا ہے

ٹیلی فون کالز اور انٹرنیٹ پر حکومتِ امریکہ کی خفیہ نگرانی کا راز افشا کرنے والے شخص، ایڈورڈ سنوڈن نے اس عہد کا اظہار کیا ہے کہ وہ ہانگ کانگ ہی میں رہیں گے اور جرم کا سامنا کرنے کے لیےامریکہ بدری کی کسی ممکنہ کارروائی کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔

انتیس برس کے سنوڈن نے بدھ کے روز ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کو بتایا کہ وہ ہانگ کانگ کی عدالتوں اور لوگوں سے یہ کہیں گے کہ وہی اُن کی قسمت کا فیصلہ کریں۔

ہانگ کانگ نے امریکہ کے ساتھ حوالگی کے معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں، اور حالیہ برسوں کے دوران چند بھگوڑوں کو امریکی حکومت کے حوالے کر چکا ہے۔

تاہم، چین یہ اختیار رکھتا ہے کہ کسی مشتبہ فرد پر لگنے والے الزامات کوسیاسی نوعیت کا قرار دے کرہانگ کانگ سےباہر جانےپر روک لگاسکتا ہے۔

سنوڈن کا کہنا ہے کہ نگرانی کے پروگراموں کے راز سے پردہ اٹھانے والی رپورٹ کا ذریعہ بننے کے بارے میں اپنی شناخت ظاہر کرنے کے بعد ہانگ کانگ کا سفر کرنا اُن کی ایک غلطی تھی، کیونکہ، اُن کے ارادوں سے متعلق ’غلط فہمی‘ پیدا ہوسکتی ہے۔

اُنھوں نے اخبار کو بتایا کہ میں انصاف سے چُھپنے کے لیے یہإں نہیں آیا؛ میں یہاں جرم سے پردہ اٹھانے آیا ہوں‘۔

اُن کی طرف سے خفیہ نگرانی کو ظاہر کرنے پر امریکہ میں سنوڈن کے بارے میں ایک بحث چھڑ چکی ہے۔

اُنھوں نے اخبار کو بتایا کہ، ’میں نہ تو غدار ہوں، نہی ہیرو۔ میں ایک امریکی ہوں۔‘
XS
SM
MD
LG