رسائی کے لنکس

افغانستان میں منشیات کے استعمال میں اضافہ: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکہ کی مدد سے کرائے گئے سروے کے مطابق ملک میں منشیات کے استعمال کی شرح 11 فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر نو افغان شہریوں میں سے ایک منشیات استعمال کرتا ہے۔

ایک سروے کے مطابق افغانستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جب کہ ایک تخمینے کے مطابق 2012 میں ملک میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 16 لاکھ تھی۔

افغانستان کے وزیرِ صحت فیروز الدین فیروز نے کابل میں امریکہ کی مدد سے کی جانے والی ایک تحقیق کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہروں اور دیہی علاقوں میں منشیات کے استعمال میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2005 میں افغانستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد نو لاکھ تھی۔

تاہم اس کے بعد کیے گئے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2014 میں یہ تعداد بڑھ کر 30 لاکھ ہو گئی ہے، جو ان کے بقول ’’بہت تشویشناک‘‘ بات ہے۔

افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی محمکہ خارجہ کے بیورو آف انٹرنیشنل نارکاٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ افئیرز کے اسسٹنٹ سیکرٹری ولیم براؤن فیلڈ نے اس تحقیق کے نتائج بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت ’’پریشان کن‘‘ کہانی بیان کرتی ہے۔

براؤن فیلڈ نے کہا کہ ’’اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس سروے کے مطابق دیہی علاقوں میں سکون آور ادویات جو ہیرؤین اور افیون جیسی سب سے تباہ کن منشیات کی طرف لے جاتی ہیں کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بچے بھی منشیات کے استعمال سے متاثر ہو رہے ہیں۔

سروے کے مطابق ملک میں منشیات کے استعمال کی شرح 11 فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر نو افغان شہریوں میں سے ایک منشیات استعمال کرتا ہے۔ یہ شرح دنیا کی سب سے بلند شرح میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’منشیات کا استعمال افغانستان کا مسئلہ ہے، امریکہ کا مسئلہ ہے اور اقوامِ متحدہ کے تمام 196 ممالک کا مسئلہ ہے‘‘ اور افغان لوگوں کو اسے ایک قومی مسئلہ سمجھ کر اس سے نمٹنا چاہیئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان دنیا کی افیون کا 80 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے، جس سے انتہائی لت آور ہیرؤین بنائی جاتی ہے۔ افغانستان دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ہیرؤین کا 90 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG