رسائی کے لنکس

شامی صدر کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عائد کرنے پرغور


شامی صدر کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عائد کرنے پرغور

شامی صدر کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عائد کرنے پرغور

وائٹ ہاؤس کے دو اعلیٰ عہدے داروں نےنامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ شام کے تیل اور گیس کے شعبوں پر معاشی تعزیرات عائد کرنے پر بھی غور کر رہا ہے

امریکہ کا کہنا ہے کہ حکومت شام کی طرف سےاختلافِ رائےکو تشدد سےدبانےکی کارروائیوں کا خاتمہ لانے کی غرض سے بڑی سطح کی سفارتی کوشش کےایک حصے کے طور پر اِس بات پر غور کیا جا رہا ہے آیا شامی صدر کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

جمعرات کونامہ نگاروں کے ساتھ ایک ٹیلی فون کانفرنس میں وائٹ ہاؤس کے دو اعلیٰ عہدے داروں نے بتایا کہ امریکہ شام کے تیل اور گیس کے شعبوں پر معاشی تعزیرات عائد کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔


عہدے داروں نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد پر دباؤ ڈالنے کی خاطر امریکہ اپنے اتحادیو ں کےساتھ ساتھ خطے سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن شخصیات سے مل کر کوششوں کو تیز کر رہا ہے۔

جمعرات کے ہی دِن امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اپنے روسی ہم منصب سے گفتگو کی، تاکہ احتجاجی مظاہرین پر کیے جانے والے تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مذمت کی قرارداد منظور کرانے کے معاملے پر روس کی حمایت حاصل کی جائے۔ روس اور چین اب تک قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔

ایسے میں جب سفارتی کوششیں جاری ہیں جمعے کو شامی سکیورٹی فورسز نے کم از کم 18مزید حکومت مخالف مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ سرگرم کارکنوں اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف اسلحہ استعمال کیا، جو صدر اسد کے استعفے کے مطالبے کا اعادہ کر رتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

مغربی ذرائع کے حوالے سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق کم از کم دو ہلاکتیں بدامنی کے شکار ہمز نامی شہر میں، جب کہ دو ہلاکتیں دار الزور نامی مشرقی قصبے میں واقع ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک نوجوان شامل ہے۔

حکومت مخالف ریلیاں دیگر شہروں میں بھی نکالی گئیں جن میں درعا، لتاکیا اور دارالحکومت دمش کے قریب کا علاقہ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG