رسائی کے لنکس

شام کےقانون میں تبدیلی پر امریکہ کا شک کا اظہار


شام کےقانون میں تبدیلی پر امریکہ کا شک کا اظہار

شام کےقانون میں تبدیلی پر امریکہ کا شک کا اظہار

امریکی ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کی رکنیت کے لیے شام کے انتخاب کی مخالفت کرے گا

امریکہ نےمنگل کے روز اِس بات پر شک کا اظہار کیا کہ شامی کابینہ کی طرف سے48برس سےجاری ہنگامی حالت ختم کیے جانے پرووٹنگ کے باعث وہاں کی انسانی حقوق کی صورت ِ حال میں کسی طرح کی کوئی بہتری آ سکتی ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نےاِس بات کی تصدیق کی ہے کہ شام کی طرف سے اقوامِٕ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کےرُکن بننے کی مخالفت کی جائےگی۔

یہاں عہدے داروں نے بتایا ہے کہ شام میں ہنگامی حالت اٹھائے جانے سے متعلق ووٹ کا اگر کوئی فائدہ تھا بھی تو عوامی مظاہروں پر ساتھ ہی منظور کی گئی قانون سازی سےاُس کی نفی ہوجاتی ہے، اور اُنھوں نے دمشق کے حکام سے اِس مطالبے کا اعادہ کیا کہ وہ مظاہرین کے خلاف تشدد بند کریں۔

شامی کابینہ کے اِس اقدام سے قبل ہفتے کو شامی صدر بشار الاسد نے اپنے خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ 1963ء سے نافذ سخت ایمرجنسی کے قانون کا خاتمہ کیا جائے گا۔

کابینہ نے آج ایمرجنسی کے خاتمے سے متعلق قانونسازی کے مسودے کی توثیق کی، جس کے ذریعے ایک خصوصی سکیورٹی عدالت کو منسوخ کیا گیا، جسے انسانی حقوق کے سرگرم کارکن بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ تاہم، کابینہ نے ایک اور اقدام کی منظوری دی جِس کے ذریعے پُر امن احتجاج پر ضابطے عائد کیے گئے ہیں اوراب مظاہرہ کرنے کے لیے شامی وزارتِ داخلہ سے پیشگی اجازت درکار ہو گی۔

ایک اخباری بریفنگ میں محکمہٴخارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہےکہ شامی قانون سازی جس پر صدر اسد کے دستخط ہونا باقی ہیں، اُس سے شام میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

ٹونر نے کہا کہ جب کہ صدر اسد نے اپنے آپ کو ایک مصلح قرار دیتے ہیں، اُن کے بقول، ہم نے بہت سارے الفاظ سنے ہیں جب کہ اِس کا کوئی عملی مظاہرہ نہیں دیکھا ، اور یہ کہ شامی عوام کو اِس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا آیا اُنھوں نے کافی اقدام کیے ہیں۔

ایمسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جمہوری اصلاحات کے لیے ایک ماہ قبل شروع ہونے والے مظاہروں میں سلامتی فورسز کے ہاتھوں کم از کم 200افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی ترجمان نے تصدیق کی کہ امریکہ، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کی رکنیت کے لیے شام کے انتخاب کی مخالفت کرے گا۔ 47ملکی کونسل میں ایشیائی ممالک کی چار میں سے ایک نشست کے لیے شام بغیر مخالفت کے میدا ن میں ہے۔ مئی کے اواخر میں ہونے والے اِس نشست کے انتخاب میں وہ کامیاب ہوسکتا ہے اگر ایشیائی ممالک میں سے کوئی امیدوار اُن کے مدِ مقابل نہیں کھڑا ہوتا۔

ترجمان ٹونر نے کہا کہ اوباما انتظامیہ سمجھتا ہے کہ دمشق کی حکومت کے اپنے ہی لوگوں کے خلاف اقدامات کے باعث انسانی حقوق کونسل میں شام کا شامل ہونا نامناسب اورمنافقانہ عمل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG