رسائی کے لنکس

طالبان اسٹریٹجی میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے: تجزیہ کار

  • بہجت گیلانی

طالبان اسٹریٹجی میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے: تجزیہ کار

طالبان اسٹریٹجی میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے: تجزیہ کار

یہ معلوم کرنے پر کہ اخباری اطلاعات کے مطابق طالبان امریکہ سے بات چیت پر توتیار ہیں لیکن افغان حکومت سے نہیں، تجزیہ کار سرور احمد زئی کا کہنا تھا کہ طالبان کی لڑائی بنیادی طور پر امریکہ سے ہے، اور یہ کہ وہ کئی قسم کی گارنٹی چاہتے ہیں جو اُنھیں امریکہ ہی دے سکتا ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ امریکہ طالبان بات چیت ’ایک مثبت قدم ہے‘، جِس کے’ امید افزا نتائج‘ برآمد ہوں گے۔ اُنھوں نے اِس امید کا اظہار کیا کہ جونہی باضابطہ مذاکرات طے ہوں گے، امریکہ چاہے گا کہ افغانستان اور پاکستان کو بھی بات چیت میں شامل کیا جائے۔

اتوارکو ’وائس آف امریکہ‘ کےحالات حاضرہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، سابق افغان صدارتی امیدوار اورافغان امور کے ماہر، سرور احمد زئی کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکمت عملی میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے۔ ’ وہ اِس بات پر رضامند ہوگئے ہیں کہ قطر میں اپنا دفتر کھولیں اور بات چیت کے لیے اپنے نمائندے بھیجیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ طالبان بات چیت میں پیش رفت یقینی ہے، اور یہ کہ اِس کام میں کئی سال نہیں لگیں گے۔ اُن کے بقول، سال بھر میں اِس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

یہ معلوم کرنے پر کہ اخباری اطلاعات کے مطابق طالبان امریکہ سےبات چیت پرتوتیار ہیں لیکن افغان حکومت سے نہیں، اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کی لڑائی بنیادی طور پر امریکہ سے ہے، اور یہ کہ وہ کئی قسم کی گارنٹی چاہتے ہیں جو اُنھیں امریکہ ہی دے سکتا ہے۔ ’مثلاً، اُن کے تحفظ کی گارنٹی، حکومت میں شمولیت کی گارنٹی اور لیڈرشپ کو سیاسی پارٹی میں تبدیل کرنے کی گارنٹی، جو صرف امریکہ ہی دے سکتا ہے‘۔

اُن سے پوچھا گیا کہ اگر امریکہ اور طالبان میں کسی طرح کی کوئی مصالحت ہوجاتی ہے، تو کیا کابل میں کوئی وسیع تر حکومت قائم ہو سکتی ہے، جس پر اُنھوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ سیاسی تصفیہ کرنے میں وقت لگے گا۔ اُن کے بقول، افغانستان کے آئین کو تبدیل کرنا پڑے گا، افغانستان کی مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی گروپوں کو راضی کرنا پڑے گا، اور خطے کے ممالک کو اعتماد میں لینا پڑے گا۔

امریکی افواج کی افغانستان سے مرحلہ وار واپسی سے متعلق سوال پر سرور احمد زئی نے نومبر کے امریکی صدارتی انتخابات کا ذکر کیا اور کہا کہ جوں جوں امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو رہا ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کے ساتھ بھی سیاسی عمل میں پیش رفت ہو، جو، اُن کے بقول، امریکہ کے لیے بھی ایک مثبت بات ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG