رسائی کے لنکس

مغربی عراق میں شدت پسندوں پر امریکی فضائی حملے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ حملے دہشت گردوں کی طرف سے ڈیم کو لاحق خطرے اور ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کیے گئے۔ یہ ڈیم اس وقت عراقی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

امریکہ نے اتوار کو مغربی عراق میں حدیثہ ڈیم کے قریب اسلامک اسٹیٹ کے شدت پسندوں پر بمباری کی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان ریئرایڈمرل جان کربے کے مطابق " عراق کی حکومت کی درخواست پر امریکی فوج نے انبار صوبے میں حدیثہ ڈیم کے قریب داعش کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائی کی۔"

ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے دہشت گردوں کی طرف سے ڈیم کو لاحق خطرے اور ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کیے گئے۔ یہ ڈیم اس وقت عراقی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

واشنگٹن کی طرف سے عراق میں اگست سے شروع ہونے والی فضائی کارروائی کے دوران پہلا موقع ہے کہ مغربی عراقی صوبے انبار میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل شمالی عراق میں امریکی فوج نے اسلام اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں اور ان کے سازوسامان پر بھی فضائی حملے کیے تھے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والی ان فضائی کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں کے علاوہ ڈرون کا استعمال بھی کیا گیا۔

ادھر عراقی علاقے اربیل کے قریب شام میں موجود مبصرین نے کہا کہ شامی حکومت نے بھی اسلامک اسٹیٹ کے مضبوط گڑھ رقیہ میں فضائی کارروائی کی جس میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں 16 عام شہری بتائے جاتے ہیں۔

سیریئن آبزورویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ عام شہری اس وقت ہلاک ہوئے جب علاقے میں شدت پسند گروپ کے زیر انتظام چلنے والی ایک بیکری پر بمباری کی گئی۔

دیگر اہداف میں شدت پسندوں کا ایک تربیتی مرکز اور شرعی عدالت کے طور پر استعمال ہونے والی ایک عمارت شامل ہیں۔

سنی شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے رواں سال کے وسط میں عراق کے شمالی علاقے میں کارروائیاں کرتے ہوئے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد انھوں نے شام کی سرحد میں بھی حصوں پر اپنا تسلط قائم کرکے ان علاقوں میں خلاف کا اعلان کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG