رسائی کے لنکس

ٹی پارٹی کے کارکن ملک بھر کے سفر پر

  • جم میلون

ٹی پارٹی کے کارکن ملک بھر کے سفر پر

ٹی پارٹی کے کارکن ملک بھر کے سفر پر

امریکہ میں آج کل قدامت پسند عوامی تحریک ٹی پارٹی کا بڑا چرچا ہے۔ اس تحریک کے کارکن ملک بھر کے بس ٹور پر نکل پڑے ہیں اور واشنگٹن پہنچنے والے ہیں۔ یہ ٹور شروع کرنے سے پہلے انھوں نے ریاست نیواڈا اور ایریزونا میں کئی جلسے کیے۔ ٹی پارٹی کی تحریک کا مقصد کیا ہے اور نومبر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات پر اس کا کیا اثر پڑے گا ۔اس بارے میں کئی اجتماعات میں موجود جم میلون نے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

ٹی پارٹی کے حامی قدامت پسند ہوتے ہیں۔ان کی غالب اکثریت سفید فام اورادھیڑ عمر یا اور زیادہ پکّی عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے اور یہ سب عام زندگی میں حکومت کے عمل دخل کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ سب صدر براک اوباما اور امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک ارکان کے سخت مخالف ہیں۔

رسٹی گرین ملک بھر میں ٹی پارٹی کے جلسوں میں جاتے ہیں اور وہاں اوباما کے خلاف نعرے لکھے ہوئے اسٹکر اور ٹی شرٹس بیچتے ہیں۔ اوباما اور ٹی پارٹی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’’سوشلزم ، اختیارات کا جابرانہ استعمال، آمریت، کمیونزم، اور مسلمان جس نے بھیس بدل رکھا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ آزادی اور کم سے کم حکومت چاہتا ہوں۔ لوگوں کو حکومت کو کنٹرول کرنا چاہیئے نہ کہ یہ حکومت لوگوں کو کنٹرول کرنے لگے۔ میرے خیال میں ٹی پارٹی کا مقصد بھی یہی ہے۔

گرین اُن ہزاروں لوگوں میں شامل تھے جو حال ہی میں ٹی پارٹی کے ایک جلسے میں شرکت کے لیے سرچ لائٹ، نیواڈا پہنچے تھے۔ سرچ لائٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر ہیری ریڈ کا گھر ہے اور ٹی پارٹی کے کارکنوں نے اس جلسے میں نومبر کے انتخاب میں ان کی شکست پر زور دیا‘‘۔

ٹی پارٹی میں سرگرم لوگ ٹیکسوں، سرکاری اخراجات یا اوباما کے ہیلتھ کیئر میں اصلاحات کے منصوبے کو پسند نہیں کرتے۔ لیکن الاسکا کی سابق گورنر سارہ پیلن ان میں بہت مقبول ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم خاموش ہو کر بیٹھ نہیں جائیں گے۔ شکریہ کہ آپ لوگ پورے حوصلے کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔

سرچ لائٹ کے جلسے میں بہت سے لوگوں نےسائن بورڈ اٹھا رکھے تھے جن میں پیلن پر زور دیا گیا تھا کہ وہ 2012ء کا صدارتی انتخاب ضرور لڑیں۔ لیکن بیشتر مقامی ریپبلیکن سیاست داں جو جلسے میں موجود تھے امید کر رہے تھے کہ ٹی پارٹی کے بیشتر کارکن ان کی انتخابی مہم میں شریک ہو جائیں گے۔ شیورن اینجل ریپبلیکن ہیں اور ریاست نیواڈا سے سینیٹ کا انتخاب لڑ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ٹی پارٹی کی تحریک بالکل میری طرح ہے ۔حکومت نے آئین کا جو حشر کیا ہے اور اس کو جس طرح رگیدا ہے، یہ لوگ اس سے تنگ آ چکے ہیں‘‘۔

ریاست نیواڈا کے ڈیموکریٹس ٹی پارٹی کی تحریک پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس سال کے امریکی کانگریس کے انتخاب پر اس تحریک کا کیا اثر ہو گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں میں اس بارے میں اتفاق نہیں کہ کیا ٹی پارٹی کی تحریک ایک علیحدہ سیاسی پارٹی بن جائے گی جو ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز دونوں سے مقابلہ کرے گی۔ یونیورسٹی آف نیواڈا کے ڈیوڈ ڈیمور کہتے ہیں کہ ’’ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ تیسری پارٹی بنانے سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ میرے خیال میں مختلف گروپوں میں یہ سمجھوتہ ہو چکا ہے کہ ہم ریپبلیکن پارٹی کو نیا انداز دینے کی کوشش کریں گے اور اس کی ابتدا عام لوگوں سے کریں گے‘‘۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ٹی پارٹی کے سرگرم کارکنوں نے نومبر کے انتخاب میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک امیدواروں کے مقابلے میں اپنے امید وار کھڑے کرنے کی کوشش کی تو اس سے معاملات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں ریپبلیکنز کے ووٹ کم ہو جائیں گے اور ڈیموکریٹس کو مدد ملے گی۔ کیونیپیاک یونیورسٹی کے پولسٹر پیٹر براون کہتے ہیں کہ ’’اگر انھوں نے ریپبلیکن پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے سے نکل کر اپنے امید وار کھڑے کیے تو پھر ریپبلیکنز کے لیے مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ ہاں اگر وہ ریپبلیکن پرائمریز میں شرکت کرتے ہیں تو اس سے لازمی طور پر ریپبلیکن پارٹی کو مدد ملے گی‘‘۔

اس دوران قدامت پسند ریپبلیکن امید وار پورے ملک میں ٹی پارٹی تحریک کو گلے لگانے اور اس کے جوش و خروش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اس تحریک میں جو جوش و جذبہ پایا جاتا ہے اس کی بدولت انہیں نومبر میں انتخاب کے روز فتح حاصل ہو گی۔

XS
SM
MD
LG