رسائی کے لنکس

ایپل کے چیف اگزیکٹو، ٹِم کُک نے کہا ہے کہ ’ایپل واچ‘ سے فون کال کی جا سکیں گی، اس سے اِی میلز پڑھی جا سکتی ہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے اور ذاتی ورزش پر نگاہ رکھی جا سکتی ہے

ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کےبڑے ادارے، ’ایپل انکارپوریٹڈ‘ نے پیر کے روز اپنی جدید ترین ’ایپل واچ‘ متعارف کرائی۔ متعدد اپلیکیشنز کی سہولت سے آراستہ، یہ قیمتی ورسٹ واچ ایک چھوٹےسے کمپیوٹر کا درجہ رکھتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی متعدد کمپنیاں، جِن میں جنوبی کوریا کی ’سام سنگ‘ اور ’ایل جی‘ اور جاپان کی’سونی‘ شامل ہے، پہلے ہی سمارٹ واچز بنا چکی ہیں۔ لیکن، دنیائے ٹیکنالوجی کی قدآور کمپنی، ایپل کو توقع ہے کہ 2011ء میں ادارے کےبانی اسٹیو جوبس کے انتقال کے بعد تیار کردہ یہ نئی مصنوعات صارفین کو اپنا گرویدہ کرلیں گی، جب کہ ادارے کی مصنوعات ’آئی فون‘ اور ’آئی پیڈ‘ پہلے ہی اپنے لیے ایک مقام پیدا کر چکی ہیں۔

ایپل کے چیف اگزیکٹو، ٹِم کُک نے کہا ہے کہ ’ایپل واچ‘ سے فون کال کی جا سکیں گی، اس سے اِی میلز پڑھی جا سکتی ہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے اور ذاتی ورزش پر نگاہ رکھی جا سکتی ہے۔

ادارے نے سان فرانسسکو میں اپنی نئی پراڈکٹ کو شایانِ شان طور پر متعارف کرایا۔

توقع ہے کہ اِن نئی مصنوعات کا سستا ترین ماڈل 349 ڈالر میں بکے گا، جِس میں 19 قراط سونے کے ماڈلز شامل ہوں گے، جو 10000 ڈالر میں فروخت ہوں گے۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگلے ماہ تک یہ واچ اسٹوروں کی زینت بن جائیں گی۔

کچھ مالی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پہلے برس کےاندر اندر 80 لاکھ سے ایک کروڑ 80 لاکھ کے درمیان ایپل واچز فروخت ہوں گی۔

حالیہ دِنوں میں، ایپل اُن 30 کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہوگ ئی ہے، جنھیں نیو یارک اسٹاک ایکس چینج کی جانب سے ڈاؤ جونز کے صنعتی سرمائے کی اہم امریکی مصنوعات کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG