رسائی کے لنکس

امریکی عسکری تنظیم کے دہشت گردانہ منصوبوں کا انکشاف


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

جارجیا میں تعینات چار فوجیوں نے اپنی تنظیم کی سرگرمیوں کا راز فاش ہونے کے خدشے کے پیش نظر ایک سابق ساتھی کو اُس کی خاتون دوست سمیت قتل کر دیا۔

امریکہ میں استغاثہ نے کہا ہےکہ ریاست جارجیا میں تعینات چار فوجیوں نے نجی طور پر قائم کی گئی اپنی عسکری تنظیم کی سرگرمیوں کا راز فاش ہونے کے خدشے کے پیش نظر ایک سابق ساتھی کو اُس کی خاتون دوست سمیت قتل کر دیا۔

فورٹ اسٹیورٹ نامی فوجی اڈے کے قریب لانگ کاؤنٹی کی ایک عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کی پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ نے انکشاف کیا کہ تنظیم نے متعدد حکومت مخالف حملوں کی منصوبہ بندی اور اس کے لیے درکار ہتھیار بھی ذخیرہ کر رکھے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق حاضر سروس اور سابق فوجیوں پر مشتمل اس گروہ کو ’فیئر‘ (خوف) کا نام دیا گیا تھا، جو فار ایور اینڈیورنگ آلویز ریڈی (مستقلاً دیرپا ہمیشہ تیار) کا مخفف ہے۔

حکام نےاس عسکری گروہ کے ممبران کی کُل تعداد سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

استغاثہ کی وکیل ازیبل پولی کا کہنا تھا کہ گروہ نے ہتھیاروں اور بموں میں استعمال ہونے والے اجزاء کے حصول پر 87 ہزار ڈالر کی رقم خرچ کی۔

اُن کا الزام تھا کہ یہ گروہ اپنی سرگرمیوں میں اتنا سنجیدہ تھا کہ اپنے منصوبوں کو صیغہ راز میں رکھنے کے لیے اس نے سابق فوجی مائیکل رورک اور اس کی 17 سالہ خاتون دوست کو دسمبر 2011ء میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

’’یہ مقامی دہشت گرد تنظیم محض منصوبہ بندی اور باتیں نہیں کرتی تھی ... شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے اس گروہ کے پاس معلومات، وسائل اور اہداف بھی تھے۔‘‘

الزامات کا سامنا کرنے والے چار فوجیوں میں 26 سالہ مائیکل برنیٹ بھی شامل ہیں، جنھوں نے اپنے بیان میں استغاثہ کے بیشتر دلائل کی توثیق کی۔ اُنھوں نے قتل، غیر قانونی گروہی سرگرمیوں میں شرکت سمیت مختلف جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے۔

مائیکل برنیٹ نے اپنے تین ساتھیوں کے خلاف کارروائی میں استغاثہ سے تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG