رسائی کے لنکس

مبینہ امریکی دہشت گردوں کی عدالت میں پیشی


دونوں کو ہفتے کے روز نیو یارک کے جان ایف کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اُس وقت گرفتار کیا گیا جب مبینہ طور پروہ شدت پسند گروپ الشباب میں شامل ہونے کی غرض سےمصر کے راستے صومالیہ جانے کے لیے دو مختلف پروازوں پرسوار ہونے کی تیاری میں تھے

بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش کے الزامات کا سامنا کرنےکے لیےدو امریکی اشخاص کو امریکہ کی شمال مشرقی ریاست نیو جرسی کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔

دونوں کو ہفتے کےروز نیو یارک کے جان ایف کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اُس وقت گرفتار کیا گیا جب مبینہ طور پروہ شدت پسند گروپ الشباب میں شامل ہونےکی غرض سے مصر کےراستے صومالیہ جانے کے لیے دومختلف پروازوں پر سوارہونے کی تیاری میں تھے۔

اِن افراد کی شناخت 20سالہ فلسطینی نژاد امریکی شہری محمد محمود العیسیٰ اور ڈومینک ری پبلیک میں پیدا ہونے والے 26سالہ امریکی شہری کارلوس ایڈوارڈ المونتے کے طور پر کی گئی ہے۔

پیر کے روز نیو جرسی میں اِن اشخاص نے پہلی عدالتی پیشی میں حاضری دی۔ اُن پر بیرونِ امریکی لوگوں کو ہلاک ، زخمی اور اغواکرنے کی سازش تیار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

وفاقی اہل کاروں نے بتایا کہ دونوں اشخاص 2006ء سے زیرِ تفتیش تھے جب ایف بی آئی کو اُن کی کارروائیوں کے بارے میں ایک گمنام اطلاع موصول ہوئی۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ہونے والی تفتیش میں اِن اشخاص کے خاندانوں نے اہل کاروں کے ساتھ تعاون کیا۔

الزامات کے مطابق، خفیہ ادارے کے عہدے داروں نے العیسیٰ اور المونتے کی طرف سےامریکیوں پرحملہ اور جہاد کرنے کے بارے میں کی جانے والی گفتگو کو متعدد بار ریکارڈ کیا۔

تعزیرا تی کارروائی میں کہا گیا ہے کہ دونوں، شدت پسندحرکات میں ملوث تھے جِن میں ہزاروں ڈالر اِکٹھے کرنا، وزن اُٹھانے کی ورزش کرنا، اور پینٹ بال میں مصنوعی حربی مشقوں میں حصہ لینا شامل ہیں۔ الزامات کے مطابق، دونوں نے فوجی سامان مثلا ً لڑائی میں استعمال ہونے والے جوتے، عینکیں، اور بیرونِ ملک کام آنے والا، ہائڈریشن سسٹم خریدا تھا۔

الشباب، صومالیہ میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں چلنے والی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کو ایک اسلامی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ یہ تنظیم امریکی حکومت کی طرف سے نامزد کرہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG