رسائی کے لنکس

نیویارک میں حملے کی کوشش، دہشت گردوں کے بدلتے ہتھکنڈوں کی علامت

  • گیری تھامس

11 ستمبر 2001 کے ہولناک واقعات کے بعد القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں امریکہ میں اس قسم کا کوئی اور حملہ نہیں کر سکی ہیں۔ نیو یارک میں ٹائمزسکوئر کا حالیہ ناکام حملہ اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ دہشت گرد گروپ اپنے ہتھکنڈے تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اب چھوٹی چھوٹی کارروائیاں کر رہے ہیں جن کا پتہ چلانا مشکل ہوتا ہے ۔

سی آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی کے سابق سربراہ رابرٹ گرینیئر کہتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے کے روز ٹائمز سکوئر میں بمباری کی ناکام کوشش اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ القاعدہ اور اس کے اتحادیوں نےامریکہ میں دہشت پھیلانے والی بڑی بڑی کارروائیوں کا خیال ترک کر دیا ہے۔ اور اب ان کی توجہ نسبتاً چھوٹے لیکن مہلک حملوں پر ہے۔

سرکاری عہدے داروں کو شروع میں ٹائمز سکوئر کی کوشش کا تعلق غیر ملکی دہشت گروں سے قائم کرنے میں تامل تھا۔ ماضی میں اس قسم کے مفروضے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ مثلاً 1995 میں جب اوکلاہوما سٹی میں فیڈرل بلڈنگ کو بم سے اڑایا گیا تو اس کا الزام غیر ملکی دہشت گردوں کو دیا گیا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ خالصتاً داخلی کارروائی تھی۔ لیکن عدالتی دستاویزات کے مطابق فیصل شہزاد نے اعتراف کیا ہے کہ اسے بم بنانے کی تربیت پاکستان میں وزیرستان کے علاقے میں ملی تھی۔

جم کاواناف ،جو بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو، فائرآرمز اینڈ ایکسپلوسوز میں 33 سال کام کرنے کےبعد حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ یا تو شہزاد کی تربیت اچھی نہیں ہوئی یا وہ بہت نالائق طالب علم تھا۔ ’’جب آپ اس شے کو دیکھتے ہیں تو آپ سوچتے ہیں کہ اس شخص کے ارادے تو بہت بلند ہیں لیکن اسے آتا جاتا کچھ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کچھ جنونی لوگوں کو بم بنانے اور اسے نیو یارک کے مرکز میں رکھنے کا خیال آیا ہو لیکن انھیں نہ دھماکا خیز مادوں کا کچھ پتہ ہو نہ بم بنانے کا۔‘‘

نیو امریکن فاؤنڈیشن کے برائن فشمین کہتے ہیں کہ ٹائمز سکوئر کے پلاٹ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ القاعدہ یا تو منجھے ہوئے اور تربیت یافتہ کارندوں سے کام لینے کو تیار نہیں ہے یا اس کے پاس ماہر لوگ ہیں ہی نہیں۔ تجربہ کار ماہرین کو استعمال کرنے کے بجائے القاعدہ کی طرف سے ایسے لوگوں کو پیسہ دیا جا رہا ہے جن میں نظریاتی طور پر تو جذبہ موجود ہے اور جن کے لیے حملہ کرنا مشکل بھی نہیں ہے لیکن جنہیں برائے نام ہی تربیت دی گئی ہے ۔

فشمین کا کہنا ہے’’لیکن میرے خیال میں ایک تبدیلی آئی ضرور ہے ۔ دہشت گردی کی پیشہ ورانہ کارروائیوں کے بجائے اب یہ آپریشنز ایسے لوگ انجام دے رہے ہیں جو بالکل اناڑی نہ سہی، کم تربیت یافتہ ضرورہیں اور جن میں تکنیکی مہارت بہت کم ہے ۔‘‘

ٹائمز اسکوائر کے پلاٹ میں ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ذمہ داری کا دعویٰ القاعدہ کی طرف سے نہیں بلکہ تحریک ِ طالبان کی طرف سے کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کو اس دعوے کی صداقت پر بھی شبہ ہے کیوں کہ پاکستانی طالبان اب تک اپنی کارروائیاں پاکستان کے اندر کرتے رہے ہیں، امریکہ میں نہیں۔ ایک طویل عرصے سے یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ امریکہ کی سرزمین کو اصل خطرہ القاعدہ کی طرف سے ہے۔

لیکن سی آئی اے کے سابق افسر رابرٹ گرینیئر کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ صحیح ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستانی طالبان نے ڈرون ہوائی جہازوں کے حملوں کے خلاف انتقامی کارروائی کی دھمکی دی ہے ۔’’ہمیں پاکستانی طالبان اور خاص طور سے تحریک ِ طالبان پاکستان کی بات پر دھیان دینا چاہیئے۔ کچھ عرصے سے ان کے لیڈر کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنے علاقے کے باہر اہداف پر ضرب لگانا چاہتے ہیں اور انھوں نے خاص طور سے امریکہ کا اور برطانیہ کا ذکر کیا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں ان دھمکیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے ۔‘‘

برائن فشمین کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ فیصل شہزاد تحریک طالبان پاکستان کا تربیت یافتہ کارندہ ہے۔ لیکن وہ مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ پاکستانی طالبان اورالقاعدہ کے اہداف الگ الگ ہیں، یہ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں اور امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ پاکستان میں اب دہشت گردوں کا سنڈیکیٹ قائم ہو چکا ہے ۔

نیویارک میں حملے کی کوشش، دہشت گردوں کے بدلتے ہتھکنڈوں کی علامت

نیویارک میں حملے کی کوشش، دہشت گردوں کے بدلتے ہتھکنڈوں کی علامت

القاعدہ کا سب سے مضبوط پہلو اور اس کی خطرناک صلاحیت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو نظریاتی طور پر تبدیل کر سکتی ہے اور دوسرے عسکریت پسند گروپوں میں سرایت کرسکتی ہے جن میں کارروائیاں کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ تو جب القاعدہ ایسا کرسکتی ہے تو اس کے لیے خود با صلاحیت ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ کسی دوسر ے گروپ میں داخل ہو کر اس کی صلاحیت کو مغرب کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ واقعی ایسا ہو رہا ہے۔

اب تک امریکہ میں کیے جانے والے حملے یا کم از کم وہ حملے جن کے بارے میں ہمیں علم ہے، امریکہ میں سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی وجہ سے اوردہشت گردوں کی بد قسمتی اور ان کی نااہلی کی وجہ سے ناکام ہو گئے ہیں۔ لیکن جیسا کہ نیو یارک سٹی کے میئر مائیکل بلوم برگ نے کہا کہ اس بار نیو یارک شہر خوش قسمت تھا۔ لیکن تقدیر کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ سکتی ہے ۔

XS
SM
MD
LG