رسائی کے لنکس

دہشت گردی کا مقدمہ، الشناوی پر فرد ِجرم عائد


امریکی اٹارنی، راڈ روزنسٹائن

امریکی اٹارنی، راڈ روزنسٹائن

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ ’اپنے بھائی کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں، جو مبینہ طور پر بھرتی کا کام کیا کرتا تھا، الشناوی نے داعش کی قیادت سے وفاداری اور پُر تشدد جہاد شروع کرنے کے عزم کا عہد کر رکھا تھا ‘

ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے ایک امریکی پر فردِ جرم عائد کی ہے، جن پر داعش کی حمایت کی سازش کا الزام ہے۔

جمعرات کو جاری کی گئی فرد جرم کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ میری لینڈ کے باسی، 30 سالہ، محمد الشناوی نے حملے پر عمل در آمد کے لیے داعش کو مادی حمایت اور رقوم فراہم کرنے کی سازش کی تھی۔

الزامات میں کہا گیا ہے کہ فروری اور دسمبر 2015ء کے درمیان، الشناوی اور اُن کے بیرون ملک رابطے نے دولت اسلامیہ کے شدت پسند گروپ میں شمولیت کی غرض سے دہشت گرد بھرتی کیے اور دیگر کو بھرتی کرنے کی کوشش کی،’ جس کے لیے اُنھوں نے خفیہ اور دیگر نوعیت کی رابطوں کی چالیں چلیں، تاکہ مجرموں سے قریبی تعلق کا پتا نہ لگ سکے۔‘

اِس میں کہا گیا ہے کہ الشناوی نے ایک موبائل فون خریدا، جسے جعلی نام اور ایڈریس پر رجسٹر کیا گیا، تاکہ داعش کے دہشت گردوں کے ساتھ رابطہ جاری رہ سکے۔

امریکی اٹارنی روزنسٹائن کے بقول، ’اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد کس طرح سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں، تاکہ حامیوں کو تربیت دینے اور خفیہ نیٹ ورک قائم کیے جاسکیں۔ لیکن وفاقی ایجنٹ اور استغاثہ انتھک کوشش کررہے ہیں کہ اُن کے شیطانی عزائم کا کھوج لگایا جائے، جس کے لیے ہر قانونی طریقہ کار عمل میں لایا جارہا ہے‘۔

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ ’اپنے بھائی کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں، جو مبینہ طور پر بھرتی کا کام کیا کرتا تھا، الشناوی نے داعش کی قیادت سے وفاداری اور پُر تشدد جہاد شروع کرنے کے عزم کا عہد کر رکھا تھا ‘۔

وائر ٹرانسفر کے ذریعے، اُنھیں مبینہ طور پر بیرون ملک سے 5000 ڈالر وصول ہوئے، تاکہ داعش کی ایما پر حملے کیے جاسکیں۔

جرم ثابت ہونے کی صورت میں، اُنھیں 43 برس کی قید ہوسکتی ہے۔



XS
SM
MD
LG