رسائی کے لنکس

قومی سلامتی کے معاون اٹارنی جنرل، جان کارلن نے کہا تھا کہ ’آلے میں تبدیلی کے لیے ایرک فئٹ نے گلیڈن اسکاٹ کرافورڈ کی مدد کی تھی، تاکہ غیر محسوس طریقے سے مسلمان امریکیوں کو پانی کی رسد میں ریڈئیشن کی خطرناک سطح شامل کی جاسکے‘۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو مادی حمایت فراہم کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ایک شخص کو آٹھ برس سے زائد قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے بدھ کے روز ایرک فئٹ کو سزا دیے جانے کا اعلان کیا، جسے گذشتہ سال ایک فرد، گلیڈن اسکاٹ کرافورڈ کو مدد فراہم کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔ مجرم نے کرافورڈ کو صنعتی سطح کے ’ریڈئیشن ڈوائس‘ میں تبدیلی لانے میں مدد کی پیش کش کی تھی، جس کا مقصد نیو یارک کے شہر البانی کے گرد کے مکین مسلمانوں کو ہلاک کرنا تھا۔
اہل کاروں کے مطابق، فئٹ نے تسلیم کیا کہ اُس نے کرافورڈ کو ریڈئیشن ڈوائس کو رمورٹ میں بدلنے کے قابل بنانے کےلیے ڈزائن میں تبدیلی کے بارے میں بتایا تھا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے طویل چھان بین کے بعد، دونوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کے معاون اٹارنی جنرل، جان کارلن نے کہا تھا کہ ’آلے میں تبدیلی کے لیے ایرک فئٹ نے گلیڈن اسکاٹ کرافورڈ کی مدد کی تھی، تاکہ غیر محسوس طریقے سے مسلمان امریکیوں کو پانی کی رسد میں ریڈئیشن کی خطرناک سطح شامل کی جاسکے‘۔

بقول اُن کے، ’قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں، بے گناہ امریکیوں کو نقصان پہنچانے کا فیٹ اور کرافورڈ کا قبیح منصوبہ ناکام بنایا گیا‘۔

محکمہٴ انصاف کے مطابق، کرافورڈ ’کو کلکس کلئن (کے کے کے)‘ کا خود ساختہ رکن ہے، جو کہ سفید فاموں کی بالادستی کا دعوے دار گروہ ہے۔ اپنی سازش کی تکمیل کے لیے اُنھوں نے ’کے کے کے‘ سے مالی اعانت کی درخواست کی تھی۔

اہل کاروں کے مطابق، بعدازاں، فئٹ اُن لوگوں سے ملے جو اُن کے مطابق ’کے کے کے‘ تنظیم کے مالی معاونت فراہم کرنے والے لوگ تھے، تاکہ بے گناہ افراد کو نقصان پہنچانے کی سازش کامیاب ہو۔

درحقیقت یہ افراد ایف بی آئی کے ایجنٹ تھے، جنھوں نے ’کے کے کے‘ کے کاروباری افراد کا روپ دھار رکھا تھا۔ سازش رچانے پر، کرافورڈ کو اگست میں مجرم قرار دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG