رسائی کے لنکس

امریکہ جا کر ملک کا حقیقی تشخص پیش کیا: پاکستانی نوجوان


اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا سینیٹر کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہما حق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو اس لیے امریکہ مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ وہاں اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔

واشنگٹن میں قائم ایک ’تھنک ٹینک‘ اٹلانٹک کونسل کے زیر اہتمام پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو امریکہ آنے کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ وہاں اپنے قیام کے دوران ناصرف مختلف اُمور پر اپنا موقف پیش کر سکیں بلکہ امریکہ و دنیا کے بارے میں جان بھی سکیں۔

2015ء میں امریکہ میں تین ہفتے قیام کر کے وطن واپس آنے والے پاکستانی نوجوانوں کے لیے ’اٹلانٹک کونسل‘ نے حال ہی میں اسلام آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔

اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا سینیٹر کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہما حق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو اس لیے امریکہ مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ وہاں اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔

’’جو میڈیا دیکھاتا ہے امریکہ میں وہی سب جانتے ہیں وہاں پر جب ایسے پاکستانی نوجوان آتے ہیں تو وہ اصل تشخص پیش کرتے رہیں۔۔۔ جس سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔‘‘

دانیال شاہ، ایک فوٹو گرافر ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ وہ جو کچھ سیکھ کر واپس آئے ہیں اب اُسے دیگر نوجوانوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’’وہاں پر عام لوگوں میں تو پاکستان کا تصور یہی تھا کہ ایک بہت ہی خطرناک ملک ہے اور عام لوگ بھی خطرناک ہوتے ہیں لیکن ان کو ہم سے مل کر ایسا لگا کہ ہم ان کے جیسے ہی ہیں۔۔۔۔‘‘

جلیلہ حیدر کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے، وہ ایک وکیل ہیں اور اُن کا ماننا ہے کہ اس طرح کے دوروں سے دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔

’’مجھے ایک موقع ملا کہ جن پلیٹ فارمز پر ہمارا امیج خراب ہے ہم نے ان جگہوں پر جا کر بھی یہ ثابت کیا کہ ہم پاکستانی ہیں اور ہم وہ نہیں ہیں جو میڈیا عموماً دیکھایا جاتا ہے ۔۔۔ ہم بہت خوبصورت پاکستان دیکھ رہے ہیں آنے والے مستقبل میں ایک طاقتور، کامیاب اور تعلیم یافتہ پاکستان۔‘‘

اٹلانٹک کونسل کی ہما حق کہتی ہیں کہ اس طرح کے رابطوں اور دوروں سے یقیناً بہت سے شعبوں میں بہتری ممکن ہو سکے گی لیکن اُن کے بقول یہ عمل سست ہو سکتا ہے اور اس کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG