رسائی کے لنکس

ڈاکٹر یافی نے بتایا جب بچی کی خوراک کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ غیر صحت مندخوراک، زیادہ مقدار میں کیلوریز اور چکنائی کی بھاری مقدار کی وجہ سے بچی کا وزن 35 کلو گرام تھا۔

امریکہ میں ایک تین سالہ بچی میں عرف عام میں شوگر کہلانے والے پیچیدہ مرض ذیا بیطس ٹائپٹو کی تشخیص ہوئی ہے، ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ بچی دنیا کی سب سے کم عمر ترین ذیا بیطس کی مریض ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن سے تعلق رکھنے والی تین سالہ بچی کا وزن ایک گیارہ برس کے بچے کے برابر ہے، اسے ڈاکٹروں نے طرز زندگی اور موٹاپے سے متعلق بیماری ذیابیطس کے ساتھ تشخیص کیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ذیا بیطس ٹائپ ٹو کو عام طور پر بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے جبکہ بچوں میں ذیا بیطس کی عام قسم ٹائپ ون زیادہ عام ہے، جس کا طرز زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ٹیکساس یونیورسٹی اسپتال کے ماہر اطفال ڈاکٹر مائیکل یافی نے یہ کیس اسٹاک ہوم میں منعقدہ یورپی ایسوسی ایشن کی ذیابیطس کانفرنس میں پیش کیا۔

ڈاکٹر یافی پہلے ماہر اطفال تھے، جنھوں نے بچی کا معائنہ کیا جو شدید پیاس اور زیادہ پیشاب کے مسئلے سے دوچار تھی۔

انھوں نے بتایا جب بچی کی خوراک کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ غیر صحت مندخوارک، زیادہ مقدار میں کیلوریز اور چکنائی کی بھاری مقدار کی وجہ سے بچی کا وزن 35 کلو گرام تھا۔

ڈاکٹر یافی نے کہا کہ بچی وزن میں زیادتی کے باعث موٹاپے کا شکار تھی جبکہ اس کے والدین بھی موٹاپے کا شکار تھے اور ان کے خاندان میں ذیا بیطس کی ہسٹری چلی آ رہی تھی۔

ڈاکٹر یافی کے مطابق مرض کی علامات، جسمانی تشخیص اور لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج کی بنیاد پر بچی میں بعد میں ذیا بیطس ٹائپ ٹو کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد بچی کو ذیابیطس کی دوا شربت کی شکل میں دی گئی تاکہ اس کے خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھا جا سکے، ساتھ ہی بچی کے والدین کو موٹاپے اور ذیابیطس کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

چھ ماہ کی تشخیص کے بعد بچی کا وزن پہلے سے 9 کلو گرام کم ہوا، اور اس کے خون میں شوگر کی سطح معمول کے مطابق ہو گئی۔

ڈاکٹر یافی نے بتایا کہ ذیا بیطس کی قسم ٹائپ ٹو بچوں کی بیماری نہیں سمجھی جاتی تھی لیکن عالمی سطح پر موٹاپے کی شرح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی اس مرض میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں ابتدائی تشخیص، ابتدائی اسکریننگ، مناسب علاج اور طرز زندگی میں ترمیم کے ذریعے ذیا بیطس کو پلٹنا ممکن ہے۔

برطانیہ میں ہر 16 میں سے ایک فرد ذیابیطس میں مبتلا ہے، جبکہ 2 فیصد بچے ٹائپ ٹو ذیا بیطس کا شکار ہیں اور کم عمر ترین مریض کی عمریں 5 سے 10 سال کے درمیان ہیں۔

انسانی بدن کے نظام ہضم میں ایک پیچیدہ عضو لبلبہ ہے۔ لبلبہ میں موجود بیٹا سیل انسولین ہارمون خارج کرتا ہے جو خون کے بہاؤ سے شکر ہٹانے کا کام کرتا ہے جبکہ ذیا بیطس کے مرض میں لبلبہ صحیح کام نہیں کرتا ہے یا پھر اس سے انسولین کی پیداوار بند ہو جاتی ہے جس سے ذیا بیطس ٹائپ ون کا مرض جنم لیتا ہے۔

ذیا بیطس کی دوسری قسم ٹائپ ٹو میں لبلبہ جسم کی ضرورت کے مطابق انسولین خارج نہیں کرتا یا پھر جسم کے خلیات اور ٹشوز انسولین کے ساتھ صحیح طریقے سے مل کر کام نہیں انجام دیتے ہیں، جس کی وجہ سے خون میں شوگر کی سطح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG