رسائی کے لنکس

صومالیہ کی نئی حکومت نے ملک میں استحکام لانے اور الشباب کے شدت پسندوں کو شکست دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت حاصل کی ہے: امریکی نائب وزیر خارجہ کارسن

ایک سینئر امریکی سفارت کار کا کہنا ہے کہ امریکہ صومالیہ کی حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے والا ہے، اور اِس طرح 1993ء میں شدت پسندوں کی طرف سے موغادیشو میں دو امریکی ہیلی کاپٹروں کو مار گرانے کے واقع کے بعد پہلی بار باضابطہ سفارتی تعلقات بحال ہو رہے ہیں۔

امریکی نائب وزیر خارجہ جانی کارسن نے بتایا ہے کہ دورے پر آئے ہوئے صومالی صدر حسن شیخ محمود اور امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن جمعرات کے روز سفارتی امور پر تبادلہٴ خیال اور نئے تعلقات کی توثیق کریں گے۔

کارسن نے کہا کہ نئی صومالی حکومت نے ملک میں استحکام لانے اور الشباب کے اسلامی شدت پسندوں کو شکست دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔

افریقی یونین اور صومالی افواج نے متعدد کلیدی قصبوں سے شدت پسندوں کو نکال باہر کیا ہے۔

تاہم، الشباب ملک کے زیادہ تر رقبے پر قابض ہے اور وہ صومالیہ کو سخت گیر ریاست بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

کارسن نے کہا کہ اکتوبر 1993ء میں جب شدت پسندوں نے دو امریکی ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا تھا، تب سے اب تک امریکہ صومالیہ تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے۔ اُس واقعے کے بعد ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشوں کو صومالی دارالحکومت کی گلیوں میں گھسیٹا اور دنیا بھر میں نشر کیا گیا تھا، جس کے باعث امریکہ اور دیگر مقامات پر غصہ اور اشتعال پھیل گیا تھا۔

سنہ 1991سے اب تک صومالیہ میں کوئی مضبوط مرکزی حکومت وجود میں نہیں آئی۔ بعد کے دو عشروں کے دوران مختلف جنگجو سرداروں اور گروپوں نے اقتدار کے حصول کی دوڑ جاری رکھی۔

چھ ماہ قبل عہدہ سنبھالنے والے پارلیمان نے مسٹر محمود کو صدر منتخب کیاہے، جس کے بعد آٹھ برس تک جاری رہنے والی ’ناکارہ اور غیر مستحکم عبوری حکومت‘ کا خاتمہ ہوا ہے۔
XS
SM
MD
LG