رسائی کے لنکس

امریکہ یہ محسوس کرتا ہے کہ سفارت خانوں میں ایسی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کے بارے میں تحفظات ہیں اور اسی لیے سفارتی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکہ نے شام سے فوری طور پر واشنگٹن میں اپنے سفارتخانے اور دو دیگر اعزازی قونصل خانوں میں سرگرمیاں معطل کرنے کا کہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا تھا کہ شام کے ایسے سفارتکار جو امریکی شہری یا مستقل رہائشی نہ ہوں وہ فوراً امریکہ سے چلے جائیں۔

‘‘ شام کے سفارتخانے کی طرف سے قونصلر سروسز معطل کیے جانے کے اعلان اور اسد حکومت کی طرف سے شام کے عوام کے خلاف کیے جانے والے ظلم و جبر کے تناظر کے بعد، یہ قابل قبول نہیں کہ اس حکومت کی طرف سے مقرر کردہ افراد امریکہ میں سفارتی سرگرمیاں جاری رکھیں۔’’

امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری بھی با رہا شام میں تین سال سے جاری لڑائی میں مرنے والے لوگوں اور اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والوں کا معاملہ اٹھا چکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ یہ محسوس کرتا ہے کہ سفارت خانوں میں ایسی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کے بارے میں تحفظات ہیں اور اسی لیے سفارتی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

"ہم دیکھیں گے کہ باقی جگہوں پر کیا ہوتا ہے لیکن اسد انتظامیہ شام میں کبھی بھی جائز حیثیت حاصل نہیں کرسکے گی۔ چاہے وہ جیتے یا نہ جیتے۔’’

شام کے لیے امریکہ کے نئے سفیر ڈینیئل روبنسٹیئن کا کہنا تھا کہ امریکہ شام کے ساتھ سفارتی تعلقات وہاں کے عوام کے ساتھ دیرینہ روابط کے اظہار کے طور پر رکھنا چاہتا ہے جو ان
کے بقول ‘‘بشارالاسد کی طرف سے اقتدار چھوڑنے کے بعد طویل‘‘ عرصے تک چلیں گے۔

دریں اثناء اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فورسز نے بدھ کو شام کی فوجی پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی اس کے بقول شام کی فوجوں کی طرف سے گولان کی پہاڑیوں پر اس کی فورسز پر حملے کے ردعمل میں کی گئی۔ اسرائیل کی طرف سے ایک فوجی تربیت گاہ، فوجی ہیڈکوارٹرز اور توپ خانے کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ منگل کو ایک بم سے اس کے فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں چار اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

ایک ترجمان نے اس دھماکے کو ‘‘شام کی طرف سے تشدد کو بڑھاوا دینے کا ناقابل قبول اقدام’’ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل اپنی فورسز کے خلاف کسی بھی طرح کے خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔
XS
SM
MD
LG