رسائی کے لنکس

دولت اسلامیہ سے لڑائی، امریکہ شام کے معتدل باغیوں کو تربیت دے گا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پینٹاگون کے ایک ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کو بتایا کہ چارسو فوجیوں کے علاوہ سینکڑوں دیگر معاون اہلکار بھی اس تربیتی منصوبے میں حصہ لیں گے۔

امریکہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کے لیے شام کے معتدل باغیوں کو تربیت فراہم کرے گا اور اس سلسلے میں 400 امریکی فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس منصوبے کی تصدیق کی ہے جس کے بارے میں جمعرات کو ویب سائٹ "ڈیفنس ون" نے انکشاف کیا تھا۔

پینٹاگون کے ایک ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کو بتایا کہ چار سو فوجیوں کے علاوہ سینکڑوں دیگر معاون اہلکار بھی اس تربیتی منصوبے میں حصہ لیں گے۔

انھوں نے متوقع طور پر آئندہ موسم بہار میں شروع ہونے والے اس تربیتی پروگرام کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ یہ کہاں شروع کیا جائے گا لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ شام کے باہر ہی منعقد ہو گا۔

ترکی، قطر اور سعودی عرب تربیتی پروگرام کی میزبانی کے لیے پیشکش کر چکے ہیں۔

صدر براک اوباما نے گزشتہ ماہ ایک دفاعی پالیسی کے قانونی مسودے پر دستخط کیے تھے جس کے ذریعے دولت اسلامیہ کے شدت پسنوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کے علاوہ عراقی فورسز اور شام کے معتدل باغیوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

دولت اسلامیہ نے گزشتہ سال عراق اور شام کے بڑے حصوں پر قبضہ کر کے وہاں خلافت کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ اس شدت پسند گروپ کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت پہلے سال پانچ ہزار لوگوں کو تربیت فراہم کی جائے گی جب کہ مشرقی شام میں دولت اسلامیہ کے زیر تسلط علاقوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے لگ بھگ 15 ہزار تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہو گی۔

XS
SM
MD
LG