رسائی کے لنکس

محکمہ ِخارجہ کی ترجمان، جین ساکی کے بقول، ’ہم فلسطینی حکومت کی کارکردگی اور اقدام پر نظر رکھیں گے۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ جن باتوں کا صدر محمود عباس نے اظہار ِخیال کیا ہے، اس پر فلسطینی حکومت کس حد تک کاربند رہتی ہے‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطین کی نئی قیادت کے ساتھ فی الوقت کام کرنے کے لیے راضی ہے اور فلسطین کو بیرونی امداد کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

دوسری جانب امریکہ نے اس موٴقف کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ فلسطینی حکومت کی سرگرمیوں اور ’ایکشنز‘ کا بغور جائزہ لے گی اور یہ بھی دیکھا جائے گا آیا نئی فلسطینی حکومت امور ِریاست کیسے چلا رہی ہے۔

امریکی محکمہ ِخارجہ کی ترجمان، جین ساکی نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے فلسطین کی عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت کا اعلان کیا گیا ہے۔ مگر اس حکومت میں کسی بھی وزیر کا تعلق فلسطینی جماعت حماس سے نہیں ہے۔

غزہ پٹی کا کنٹرول حماس کے پاس ہے؛ اور امریکہ حماس کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیتا ہے۔

محکمہ ِخارجہ کی ترجمان کے بقول، ’ہم فلسطینی حکومت کی کارکردگی اور ایکشنز پر نظر رکھیں گے۔ ہم فلسطینی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم فلسطینی حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ جن باتوں کا صدر محمود عباس نے اظہار ِخیال کیا ہے، اس پر فلسطینی حکومت کس حد تک کاربند رہتی ہے‘۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے مشرق ِوسطیٰ میں امن کے لیے ہر طرح کی معاونت پر زور دیا اور کہا کہ وہ مشرق ِوسطیٰ میں حالات کی بہتری اور امن کے لیے اقوام ِمتحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور روس کی جانب سے وضع کردہ اصولوں پر کاربند رہیں گے۔ ان اصولوں میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا، تشدد کے خاتمے اور ماضی میں کیے گئے معاہدوں پر کاربند ہونا بھی شامل ہے۔

دوسری طرف، اسرائیلی وزیر ِاعظم نیتن یاہو نے عالمی راہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین کی نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں، کیونکہ ان کے بقول یہ نئی حکومت ’دہشت گردی کو مضبوط‘ کرنے کا سبب بنے گی۔

اسرائیلی وزیر ِ اعظم کی حکومت کی جانب سے فلسطین کے ساتھ کیے جانے والے امن مذاکرات کو 23 اپریل کو اس وقت معطل کر دیا گیا تھا، جب دو فلسطینی تنظیموں نے ایک معاہدے کے تحت حکومت کے قیام کا عندیہ دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG