رسائی کے لنکس

گوانتانامو سے نو یمنی قیدی سعودی عرب منتقل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اوباما انتظامیہ نے ان افراد کو ان کے آبائی وطن یمن بھیجنے کے خلاف فیصلہ دیا تھا کیونکہ اسے خانہ جنگی کا سامنا ہے جہاں القاعدہ کی ایک شاخ سرگرم ہے۔

خلیج گوانتانامو کے امریکی حراستی مرکز سے نو یمنی شہریوں کو سعودی عرب منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت کیا گیا جب اوباما انتظامیہ کانگرس کے ریپبلکنز ارکان کی سخت مخالفت کے باوجود اس متنازع حراستی مرکز کو بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہفتے کو دیر گئے ٹی وی پر نشر ہونے والے مناظر میں سعودی عرب کے دارالحکومت پہنچنے والے ان افراد کو دیکھا جا سکتا ہے جو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران حراست میں لیے گئے تھے۔

ریاض پہنچنے پر ان کا طبی معائنہ کیا گیا جہاں ایک اعلیٰ یمنی عہدیدار ان کا انتظار کر رہے تھے۔ یہاں منتقل کیے گئے کئی افراد نے انہیں اپنے ہاں منتقل کرنے پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

یمن کے انسانی حقوق کے وزیر عزل الدین الصباحی نے کہا کہ "ہم ایک ایسا پروگرام ترتیب دے رہے ہیں جو ان کے لیے امید اور مستقبل کے لیے ایک موقع فراہم کرے۔۔اس معاشرے کا حصہ (بن سکیں) اور جس کی بنیاد امن ہو"۔

ہفتے کو واشنگٹن میں ان افراد کو منتقل کرنے کا اعلان صدر اوباما کی طرف سے اس منصوبےکے اعلان کے چند ہی ہفتے بعد ہوا جس میں ان کے جنوری 2017ء میں عہدہ صدارت چھوڑنے سے پہلے اس حراستی مرکز کو بند کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

یہ اعلان صدر اوباما کی طرف سے سعودی عرب میں چھ ممالک کی خلیج تعاون کونسل کی سربراہی اجلاس میں شرکت سے بھی چند دن پہلے سامنے آیا ہے۔

یہ منتقلی سعودی عہدیداروں کے ساتھ ایک طویل مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے جنہوں نے بالآخر ان زیر حراست افراد کو اپنے ہاں قبول کر نے اور انہیں حکومت کے تحت چلنے والے ایک بحالی کے پروگرام میں شامل کرنے پر اتفاق کیا جس کا مقصد سابقہ "عسکریت پسندوں" کو معاشرے میں دوبارہ ضم کرنا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے ان افراد کو ان کے آبائی وطن یمن بھیجنے کے خلاف فیصلہ دیا تھا کیونکہ اسے خانہ جنگی کا سامنا ہے جہاں القائدہ کی ایک شاخ سرگرم ہے۔

گوانتانامو بے میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 780 افراد بند تھے تاہم حال ہی میں متنقل کیے جانے والے افراد کے بعد پینٹاگان کا کہنا ہے کہ اب یہاں زیر حراست افراد کی تعداد 80 رہ گئی ہے۔

ان باقی رہ جانے والے زیر حراست افراد میں وہ 26 افراد بھی شامل ہیں جنہیں امریکی حکومت کی طرف سے آئندہ مہینوں میں یہاں سے رہا کرنے کا اہل قرار دیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG