رسائی کے لنکس

افغانستان میں اضافی فوج کی تعیناتی کا مقصد تعطل کا خاتمہ


فائل

لیکن، سوال یہ کیا جا رہا ہے آیا ملک میں اضافی فوج کی یہ مختصر تعداد بھیج کر کیا حاصل کیا جا سکتا ہے، جہاں 350000 افغان سلامتی افواج پہلے ہی سے موجود ہیں

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں آیا افغانستان میں اضافی 5000 فوج روانہ کی جائے، جو فیصلہ 25 مئی کو نیٹو کے سربراہ اجلاس سے پہلے متوقع ہے۔

لیکن، سوال یہ کیا جا رہا ہے آیا ملک میں اضافی فوج کی یہ مختصر تعداد بھیج کر کیا حاصل کیا جا سکتا ہے، جہاں 350000 افغان سلامتی افواج پہلے ہی سے موجود ہیں۔

مارچ میں سینیٹروں، جان مکین اور لِنڈسی گراہم نے، جو دونوں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مسلح افواج کے ارکان ہیں، ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں نجی رائے پر مبنی تحریر شائع کی ہے، جس کا عنوان ہے ’’افغانستان میں تعطل کے خاتمے کے لیے ہمیں مزید فوجیں کیوں بھیجنی چاہئیں‘‘۔

ایک سوال میں، ٹرمپ ضرور اِس بات کو زیر غور لائے ہوں گے، جب اُن کے اعلیٰ مشیروں نے حال ہی میں تجاویز کی دستاویز اُن کے ڈیسک پر رکھی ہو گی۔

ٹرمپ انتظامیہ 3000 یا 5000 اضافی فوج افغانستان روانہ کرنے کا معاملہ طے کر رہی ہے، تاکہ طالبان کے خلاف 15 برس طویل لڑائی میں تعطل کو توڑا جا سکے۔

انتظامیہ کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اِس ماہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت سے قبل، توقع ہے کہ ٹرمپ فوج کی تعیناتی میں اضافے کے معاملے پر غور کریں گے۔

کچھ حضرات اِسے اُن کی صدارت کے اولین ایام میں اٹھایا جانے والا سب سے اہم فیصلہ قرار دے رہے ہیں، جس سے صدر ٹرمپ اور صدارتی امیدوار ٹرمپ کے بیانات کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ برعکس اِس کے، اُنھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ افغانستان سے انخلا کے بعد اپنا دھیان امریکہ پر مرکوز کریں گے۔

ایسے میں جب 350000 افغان سکیورٹی فورسز پہلے ہی لڑائی میں تعینات ہیں، جو اضافی فوج زیرِ غور ہے اُس کی تعداد مختصر ہے، جس کا محض یہ مقصد لگتا ہے کہ اس سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG