رسائی کے لنکس

چند امریکی سیاسی تجزیہ کاروں نے 53 برس کے کرسٹی کے لیے، جو کسی وقت وفاقی استغاثہ کے رکن رہ چکے ہیں، کہا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ ری پبلیکن پارٹی کے ٹکٹ پر ٹرمپ کے نائب صدر کے طور پر انتخاب لڑیں، حالانکہ ٹرمپ نے اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ وہ کسےنامزد کرنے کا سوچ رہے ہیں

امریکی ری پبلیکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ نےنومبر کے قومی انتخابات میں جیت کی صورت میں، وائٹ ہاؤس کے لیے کلیدی مشیروں کے چناؤ کے کام کا آغاز کردیا ہے۔

جائیداد کے ارب پتی کاروباری نے صدر براک اوباما کے جانشین بننے کے بعد عبوری دور کے سربراہ کے طور پر نیوجرسی کے گورنر کرس کرسٹی کو نامزد کیا ہے۔ کرسٹی ٹرمپ کے مدمقابل صدارتی امیدوار کے طور پر انتخابی مہم چلانے کے مہینوں بعد نامزدگی کی دوڑ سے الگ ہوگئے تھے۔

ٹرمپ کی طرح، کرسٹی بھی منہ پھٹ شخص جانے جاتے ہیں، جو فروری میں صدارتی دوڑ سے الگ ہوگئے تھے، جب نیو ہیمپشائر کی شمال مشرقی ریاست میں منعقدہ پارٹی پرائمری میں چھٹے نمبر پر آنے کے بعد سبک دوش ہوگئے تھے، جس میں ٹرمپ فتحیاب ہوئے تھے۔

بعد ازاں، کرسٹی نے ری پبلیکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے نام کی توثیق کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وہ انتخابی مہم کی کئی ایک ریلیوں میں ٹرمپ کے ہمراہ دکھائی دیتے رہے ہیں۔

چند امریکی سیاسی تجزیہ کاروں نے 53 برس کے کرسٹی کے لیے، جو کسی وقت وفاقی استغاثہ کے رکن رہ چکے ہیں، کہا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ ری پبلیکن پارٹی کے ٹکٹ پر ٹرمپ کے نائب صدر کے طور پر انتخاب لڑیں، حالانکہ ٹرمپ نے اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ وہ کسےنامزد کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

ٹرمپ، جو کسی وقت ٹیلی ویژن ریلٹی شو کے میزبان رہ چکے ہیں، کبھی عوامی عہدے پر فائز نہیں رہے۔ اُنھوں نے اپنے داماد، جرید کوشنر کو وائٹ ہاؤس عبوری دور کے معاملات طے کرنے پر مامور کیا ہے۔ کوشنر ہفتہ وار اخبار،’نیو یارک آبزرور‘ اور جائیداد کی خرید و فرخت سے متعلق ایک ترقیاتی ادارے کے سربراہ ہیں۔
ٹرمپ، جو سیاسی میدان میں نوآزمود ہیں، اُن کے لیے کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ جیت کی صورت میں وہ کلیدی عہدوں پر کس کو نامزد کریں گے۔

ری پبلیکن پارٹی کے چند معروف حضرات جن میں دو سابق صدور بھی شامل ہیں، صدر جارج ایچ ڈبلیو بش اور اُن کے بیٹے صدر جارج ڈبلیو بش نے اُن کے نام کی توثیق سے انکار کیا ہے۔ پارٹی کے موجودہ چوٹی کے عہدے دار، ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر پال رائن نے کہا ہے کہ وہ ابھی ٹرمپ کی ’’حمایت پر تیار نہیں‘‘ ہیں۔

ٹرمپ نے ری پبلیکن ووٹروں سے ایک ریاست کے بعد دوسری ریاست میں وسیع تر حمایت حاصل کی ہے، جو امریکہ میں مقیم ایک کروڑ 10 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے، مزید پناہ گزینوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے میکسیکو سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر کرنے کا عہد کرچکے ہیں، اور تجویز پیش کی ہے کہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر عارضی بندش عائد کی جانی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG