رسائی کے لنکس

امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ ’مکمل طور پر‘ بند کیا جائے: ٹرمپ


فائل

فائل

’اُس وقت تک کہ ہم اس مسئلے کو سمجھنے اور طے کرنے میں کامیاب ہوں کہ اس سے کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، ہمارے ملک کو جہاد میں یقین رکھنے والے افراد کی جانب سے درپیش مہلک حملوں کا شکار نہیں بننا چاہیئے، جو کسی دلیل کو نہیں مانتے اور جنھیں انسانی زندگی کی حرمت کا پتا نہیں ہے‘

ریپبلیکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک قوم کے رہنما طے کریں کہ ’در اصل معاملہ کیا ہے‘، امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ ’مکمل طور پر‘ بند کیا جائے۔

ٹرمپ نے الزام لگایا کہ رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ’مسلمان آبادی کا بڑا حصہ امریکیوں سے نفرت کرتا ہے‘۔

ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ ’اُس وقت تک کہ ہم اس مسئلے کو سمجھنے اور طے کرنے میں کامیاب ہوں کہ اس سے کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، ہمارے ملک کو جہاد میں یقین رکھنے والے افراد کی جانب سے درپیش مہلک حملوں کا شکار نہیں بننا چاہیئے، جو کسی دلیل کو نہیں مانتے اور جنھیں انسانی زندگی کی حرمت کا پتا نہیں ہے‘۔

مسلمانوں کے خلاف ٹرمپ کے سخت بیانات نئی بات نہیں۔ اُنھوں نے مبینہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مساجد پر نگرانی کی جائے؛ جب کہ اُنھوں نے اپنی پچھلی تجویز کی تردید نہیں کی جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے ناموں کا ایک ڈیٹابیس ہونا چاہیئے، جس میں اُن کے ناموں کا اندراج کیا جائے۔
تاہم، پیر کا بیان اُس سے بھی سخت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ارب پتی عام طور پر مسلمانوں کے عقیدے کے بارے میں سخت بیان بازی کرتے ہیں، جن میں پیرس اور کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو کے دہشت گرد حملوں کے بعد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ٹرمپ کے بیان سے ایک ہی روز قبل ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے قوم سے خطاب میں صدر براک اوباما نے امریکیوں پر زور دیا کہ دہشت گرد حملوں کے تناظر میں مسلمانوں کے خلاف کچھ نہ کہا جائے۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد، وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس کی مذمت کی، اور اِسے ’ہمارے امریکی اقدار کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

خارجہ امور کے بارے میں صدر اوباما کے اعلیٰ مشیر، بین رہوڈز نے سی این این کو بتایا کہ ’ہمارے بِل آف رائٹس میں مذہب کی آزادی کی حرمت‘ پر زور دیا گیا ہے۔

پرائمری صدارتی مرحلے میں ایک دوسرے کے مخالف امیدواروں نے ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔

فلوریڈا کے سابق گورنر اور ساتھی صدارتی امیدوار، جیب بش نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’پالیسی تجاویز کے معاملے پر ٹرمپ سنجیدہ نہیں‘۔

نیو جرسی کے گورنر، کِرس کرسٹی کے بقول، ’یہ بے عقلی پر مبنی بیان ہے، جس سے تعمیری نتائج برآمد نہیں ہوں گے‘۔

لِنڈسی گراہم نے کہا ہے کہ ’ٹرمپ کے عجب بیانات اب انتہائی خطرناک ہوتے جارہے ہیں‘۔

ابراہیم ہوپر ’کونسل آن امریکن اسلامک رلیشنز‘ کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے ٹرمپ کے بیان کی سخت مذمت کی ہے۔ بقول اُن کے، ’اب وہ فسطائی قسم کے خیالات پیش کرنے لگے ہیں‘۔

XS
SM
MD
LG