رسائی کے لنکس

سنوڈن سے تعلق رکھنے والے صحافی کا ساتھی زیر حراست


ڈیوڈ مرانڈا، امریکی صحافی گلین گرین وڈ کے ساتھ رہتے ہیں، جو برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کے لیے کام کرتے ہیں۔ اُنھیں تقریباً نو گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا، جب وہ برلن سے واپس ریو ڈی جونیرو جاتے ہوئےلندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر رُکے

برطانوی حکام اُس وقت سوالات کا ہدف بنے جب انسداد دہشت گردی کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اُنھوں نے برازیل کےصحافی کےایک ساتھی کو حراست میں لیا، جنھوں نے امریکی قومی سلامتی ادارے کے سابق اہل کار ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے انکشافات پر مبنی خفیہ معلومات شائع کی تھی۔

ڈیوڈ مرانڈا، امریکی صحافی گلین گرین والڈ کے ساتھ رہتے ہیں، جو برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کے لیے کام کرتے ہیں۔ اُنھیں تقریباً نو گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا، جب وہ برلن سے واپس ریو ڈی جونیرو جاتے ہوئےلندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر رُکے۔

گرین والڈ کا کہنا ہے کہ مرانڈا کو وکیل تک رسائی فراہم کرنے سے انکار کیا گیا اور عہدے داروں نے اُن کا تمام الیکٹرانک میڈیا چھین لیا، جس میں موبائل فون، ڈی وی ڈیز اور
’اِنکرپٹڈ ڈیٹا اسٹوریج‘ کے آلات تھے، جِن میں امریکی حکومت کی طرف سے گرین والڈ کے خلاف چھان بین سے متعلق دستاویزات بھی شامل تھے۔

برطانوی قانون ساز، کیتھ واز نے کہا ہے کہ وہ پولیس سے اس بارے میں وضاحت طلب کر رہے ہیں۔

بقول اُن کے، یہ ایک ’غیر معمولی‘ بات ہے کہ پولیس کو پتا تھا کہ مرانڈا گرین والڈ کے ساتھی ہیں اور یہ کہ حکام سنوڈین کے انکشافات سے واسطہ رکھنے والے ساتھیوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش اِرنیسٹ نے پیر کو کہا کہ مرانڈا کو حراست میں لینے سے قبل، برطانوی عہدے داروں نے اپنے امریکی ہم منصبوں سے صلاح و مشورہ کیا۔ تاہم، ارنسٹ نے کہا کہ امریکی عہدے داروں نے برطانوی حکام کو یہ نہیں بتایا کہ مرانڈا سے پوچھ گچھ کریں، اس لیے، اِس بات سے اُن کا کوئی تعلق نہیں۔

’دِی گارڈین‘ اخبار کی ویب سائي پر شائع ایک کالم میں، گرین والڈ نے لکھا ہے کہ مرانڈا کی حراست کا مقصد اُن لوگوں کو ہراساں کرنا ہے جو، اُن کے بقول، ’پیشہ ور صحافی ہیں اور این ایس اے اور اُس کے برطانوی ہم پلہ ادارے، ’جی سی ایچ کیو‘ کے بارے میں لکھتے ہیں‘، جس سے مراد، برطانوی حکومت کا کمیونیکیشن ہیڈکوارٹرز ہے۔

اِس واقعے پر، برازیل کی وزارت خارجہ نے اپنی ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے، جس کے بارے میں اُس کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی جواز نہیں تھا، کیونکہ اس میں ایک فرد واحد ملوث ہے جن کے خلاف کوئی ایسا جرم عائد نہیں جس پر اس قانون کا نفاذ ہوتا ہو۔

دہشت گردی سے متعلق برطانوی قانون 2000ء میں منظور ہوا تھا جس کا نفاذ ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور سرحدی علاقوں تک ہی محدود ہے۔
XS
SM
MD
LG