رسائی کے لنکس

یہ مشقیں ایک ایسے وقت ہو رہی ہیں جب صدر اوباما اس ہفتہ یوکرین کے صدر سے بات چیت کے لیے وائٹ ہاوس میں ان کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں۔

یوکرین کے مغرب میں امریکہ کی زیر قیادت 15 ممالک کی امن مشقیں پیر کو شروع ہو رہی ہیں۔

یہ مشقیں ایک ایسے وقت ہو رہی ہیں جب صدر اوباما اس ہفتہ یوکرین کے صدر سے بات چیت کے لیے وائٹ ہاوس میں ان کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں۔

وزرات دفاع نے اس ماہ کے اوئل میں یہ کہتے ہوئے 12 روزہ مشقوں کا اعلان کیا تھا کہ اس میں 200 امریکی فوجیوں سمیت 1300 اہلکار حصہ لیں گے۔ اس سال کے اوائل میں بحران شروع ہونے کے بعد پہلی بار امریکی فوجی یوکرین میں امن مشقوں میں حصہ لیں گے۔

یوکرین کے فوجیوں اور باغیوں کے درمیان ملک کے مشرقی حصہ میں لڑائی جاری ہے۔

اتوار کو باغیوں کے زیر قبضہ علاقے ڈونٹسک کے باہر ایک ائرپورٹ پر شدید لڑائی شروع ہوئی۔

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) نے اتوار کو اطلاع دی تھی کہ اس کے نگران اہلکاروں نے ڈونٹسک کی مارکیٹ کا دورہ کیا اور بظاہر ایسا نظر آتا تھا کہ وہاں گولہ باری کی گئی۔

وائٹ ہاوس کے ایک ترجمان نے جمعہ کو کہا کہ صدر اوباما اور یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو جب جمعرات کو ملیں گے تو وہ بحران کو ختم کرنے کے لیے سفارتی طریقوں پر غور کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ بات چیت امریکہ کے اس عزم کا اظہار ہو گا کہ وہ جمہوریت اور استحکام کے حصول کے لیے "یوکرین کے ساتھ کھڑا ہو گا"۔

فرانس میں عراق سے متعلق پیر کو ہونے والے ایک کانفرنس کے موقع پر توقع ہے کہ یوکرین کی صورت حال پر بھی بات چیت ہو گی ۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ وزیر خاجہ جان کیری اس حوالے سے ہونی والی پیش رفت کے بارے میں کئی وزرائے خارجہ سے بات چیت کریں گے۔

XS
SM
MD
LG