رسائی کے لنکس

یوکرین: جارحانہ روسی اقدام، ایشٹن کارٹر نے اجلاس طلب کر لیا


فائل

فائل

اسٹٹگارٹ میں منعقد ہونے والے اجلاس کا مقصد یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے عائد کردہ معاشی تعزیرات کے مؤثر ہونے کے بارے میں جائزہ لینا اور یوکرین میں جاری روسی کارروائیوں سے نبردآزما ہونے کے لیے نیٹو کی حکمت عملی کو زیر غور لانا ہے

اعلیٰ امریکی دفاعی اہل کار اور سفارت کار جمعے کو جرمنی کے شہر، اسٹٹگارٹ میں اکٹھے ہو رہے گے، جہاں وہ یوکرین میں روسی فوجی کارروائیوں اور جارحیت کے بارے میں اتحادیوں کی تشویش پر غور کریں گے، ایسے میں جب یوکرین کی فوج اور روسی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں تیزی آ چکی ہے۔

امریکی یورپی کمان کے صدر دفتر میں بند کمرے میں ہونے والے اس اجلاس میں، وزیر دفاع ایشٹن کارٹر جنرلوں، سفارت کاروں اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، جس کا مقصد یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے عائد کردہ معاشی تعزیرات کے مؤثر ہونے کے بارے میں جائزہ لینا اور یوکرین میں جاری روسی کارروائیوں کے مقابلے کے لیے نیٹو کی حکمت عملی کو زیر غور لانا ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان، برینٹ کولبرن کے بقول، ’اجلاس کا مقصد وزیر دفاع کی سوچ سے آگاہ ہونا ہے، ایسے میں جب وہ جون کے آخر میں نیٹو کے پہلے وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والے ہیں‘۔

کولبرن نے کہا کہ اِن میں سے ایک شعبہ جس پر دھیان مرتکز رہے گا وہ گذشتہ 18 ماہ کے دوران روس کی کارروائیاں ہیں، جن میں یوکرین میں کی جانے والی جارحانہ حرکات شامل ہیں۔

جمعرات کو پینٹاگان کی بریفنگ کے دوران، ترجمان اسٹیو وارن نے کہا ہے کہ بات چیت میں روس کے حربوں کے ہمارے یورپی پارٹنرز پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم ہوگا۔

دریں اثنا، وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جوش ارنیسٹ نے جمعرات کو بتایا کہ آئندہ دٕنوں کے دوران، جرمنی میں منعقد ہونے والے جی 7 کے اجلاس میں صدر براک اوباما روس کے خلاف تعزیرات میں اضافے سے متعلق بات کریں گے۔

ارنیسٹ نے یہ بات تسلیم کی کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یوکرین کے اندر حکمت عملی کی حامل تبدیلی لانے کی کوششوں کے خلاف اُسی تناسب سے معاشی دباؤ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG