رسائی کے لنکس

ضرورت پڑی تو ٹرمپ شام پر پھر حملہ کریں گے: نِکی ہیلی


اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ محسوس کرتے ہیں کہ شام پر مزید فوجی حملوں کی ضرورت ہے ''تو وہ ایسا کریں گے''۔

سفیر نِکی ہیلی نے اتوار کے روز 'سی این این' کو بتایا کہ ''وہ یہاں پر رُکیں گے نہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ مزید اقدام ضروری ہے، تو وہ ایسا کریں گے''۔

تاہم، شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کی ترجیح کے حوالے سے، ہیلی اور وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے ملے جلے اشارے دیے ہیں۔

ہیلی کے بقول ''یہ کسی آپشن کا معاملہ نہیں کہ اگر اسد حکومت کا سربراہ رہتا ہے تو کسی سیاسی حل کی بات کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر آپ اُن کے اقدامات پر نظر ڈالیں، اگر آپ اُن کی صورتِ حال پر نگاہ ڈالیں، تو کوئی حکومت ایسی دکھائی نہیں دیتی جو اسد کو پُرامن اور مستحکم خیال کرتی ہو''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''حکومت کی تبدیلی ایسی بات ہے جو ہمارے خیال میں ہو کر رہے گی''۔

تاہم امریکہ کے وزیر خارجہ ٹِلرسن نے کہا ہے کہ شام میں ابھی تک داعش کو شکست دینا ہی امریکہ کا اولین ہدف ہے۔

ٹِلرسن نے 'سی بی ایس' کے پروگرام 'فیس دِی نیشن' کو بتایا کہ ''یہ انتہائی اہم معاملہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست رکھیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری اولین ترجیح داعش کو شکست دینا ہے''۔

ٹِلرسن نے کہا کہ ''جب دولت اسلامیہ کا خطرہ کم ہو جائے یا ٹَل جائے، تو میرے خیال میں ہم اپنا دھیان براہِ راست شام کی صورتِ حال کو مستحکم بنانے کی جانب مبذول کریں گے''۔

امریکی سفارت کاری کے چوٹی کے اہل کار نے مزید کہا کہ ''ہمیں توقع ہے کہ ہم خانہ جنگی کو جاری رکھنے سے روکیں گے'' اور یہ کہ ''شامی حکومت اور حکومت کو ہٹانے کی کوشش کرنے والے مخلتف باغی گروپوں کے مابین ''سیاسی مذاکرات کے عمل کے آغاز کے لیے، تمام فریق کو بات چیت کی میز پر لا سکیں گے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG