رسائی کے لنکس

بے روزگاری الاؤنس کی میعاد، قانونسازی میں حائل رکاوٹیں دور


فائل

فائل

عمومی طور پر، ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز حکومت کے سماجی پروگراموں کے لیے اضافی فند دینے کے حامی ہیں، جب کہ ریپبلیکنز ایسے اخراجات میں کٹوتی کے خواہاں ہیں

امریکی سینیٹ نے قانونسازی کی اُن رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے، جِن کا مقصد ایک طویل عرصے سے ملازمت نہ ملنے والے 13 لاکھ بے روزگار کارکنان کے لیے بے روزگاری الاؤنس کو بحال کرنا ہے، جِس کی میعاد گذشتہ ماہ ختم ہوگئی تھی۔

منگل کو سینیٹ نے اِس بِل کے حق میں 60 اور مخالفت میں 37 ووٹ دیے، تاکہ کارکنوں کو بے روزگاری الاؤنس دیے جانے سے متعلق منصوبے پر مباحثے کی گنجائش پیدا ہو۔

اگلے تین ماہ تک دی جانے والی اِن ادائگیوں کی مالیت چھ ارب 50 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔

لگتا یوں ہے کہ سینیٹ اب رقوم کی منظوری کے معاملے پر کرائے جانے والی حتمی ووٹنگ کے لیے تیار ہے۔ تاہم، امریکی ایوانِ نمائندگان میں اِس اقدام کی قسمت کا فیصلہ غیر یقینی ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان کے متعدد ارکان بے روزگاروں کو الاؤنس دیے جانے کے معاملے کی میعاد میں اضافے کے خلاف ہیں، تاوقتیکہ دیگر پروگراموں کی رقوم میں سے مساوی رقم منہا نہیں کی جاتی۔

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ قانون ساز ادارے کی طرف سے بے روزگاروں کو الاؤنس فراہم کرنے میں توسیع دینا، اُن کی طرف سے اِس سال کی قانون سازی میں اولین ترجیح کا معاملہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ متاثرہ کارکنوں کو اپنے بِلوں کی ادائگی کے لیے مدد فراہم کی جائے، اور فروغ پاتی ہوئی امریکی معیشت کو سہارا دیا جائے۔ اُنھوں نے وائٹ ہاؤس میں کچھ بے روزگار کارکنوں سے ملاقات کی اور کانگریس پر زور دیا کہ ایسے کارکنوں کے لیے رقوم کی فوری منظوری دی جائے۔

حکومتی اخراجات کے حوالے سے، سیاسی طور پر منقسم واشنگٹن میں، بے روزگاری الاؤنس کی میعاد میں اضافے کا معاملہ تازہ ترین تنازع ہے۔

عمومی طور پر، ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز حکومت کے سماجی پروگراموں کے لیے اضافی فند دینے کے حامی ہیں، جب کہ ریپبلیکنز ایسے اخراجات میں کٹوتی کے خواہاں ہیں۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد، ہیری ریڈ نے کہا ہے کہ فروغ پاتی ہوئے امریکی معیشت کے باوجود، کئی لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا۔
XS
SM
MD
LG