رسائی کے لنکس

ترکی اور کرد ملیشیا 'تحمل' سے کام لیں: امریکہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

قبل ازیں ترکی کی فوج نے جنگ کا شکار حلب شہر کے شمال میں کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر گولی باری کی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ترکی کی طرف سے شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی اطلاعات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ترکی اور شامی کردوں پر تحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے جبکہ بدامنی کے شکار اس خطے میں کشیدگی اپنی انتہا تک پہنچ گئی ہے ۔

ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں دونوں فریقو ں کو پیچھے ہٹنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بجائے وہ داعش کے انتہاپسندوں کو شکست دینے پر اپنی توجہ مرکوز کریں جو شمالی شام میں ایک وسیع علاقے پر قابض ہے۔

قبل ازیں ترکی کی فوج نے جنگ کے شکار حلب شہر کے شمال میں کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر گولی باری کی۔ یہ گولہ باری ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اغلو کی طرف سے اس انتباہ کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر سرحد پار سے اسے کوئی خطر ے درپیش ہوا تو انقرا کارروائی کرے گا۔

شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والی برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ اس گولہ باری میں کرد ملییشا کی طرف سے باغیوں سے چھینے گئے ایک فضائی اڈے اور ایک گاؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

ترکی شام کی کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی 'پی وائے ڈی' اور اس کی حامی ملیشیا کو کرد ورکرز پارٹی کا ہی حصہ قرار دیتا ہے جس نے ترکی کے خلاف گزشتہ کئی دہائیوں سے بغاوت کر رکھی ہے۔

ایک کرد عہدیدار نے اس بات کی تصیدیق کی کہ یہ بمباری میناغ کے فضائی اڈے پر ہوئی جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس پر کرد کے حامی جیش ال تہور گروپ نے قبضہ کیا تھا نا کہ کرد ملیشیا نے اور یہ دونوں شام کی ڈیموکریٹک فورسز کے اتحاد کا حصہ ہیں جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔

کرد ملیشیا، جسے 'وائے پی جی' کہا جاتا ہے اور وہ شام کی مضبوط 'کُردش ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائے ڈی)' کا ہی ایک مسلح دھڑا ہے۔

XS
SM
MD
LG