رسائی کے لنکس

سابق امریکی سفارت کار رابن رافیل کو تحقیقات کا سامنا


رابن رافیل (فائل فوٹو)

رابن رافیل (فائل فوٹو)

ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ رافیل کی ملازمت تکنیکی اعتبار سے دو نومبر کو ختم ہوچکی ہے لیکن ان کی سکیورٹی کلیئرنس کو اکتوبر میں واپس لے لیا گیا تھا۔

امریکہ کی ایک تجربہ کار اور پاکستان کے امور کی ماہر سابق سفارتکار کو تحقیقات کا سامنا ہے جب کہ ان کا نام 'خطرے سے پاک' شخصیات کی فہرست سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ رابن رافیل سے متعلق تحقیقات میں تعاون کیا جا رہا ہے۔

ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ رافیل کی ملازمت تکنیکی اعتبار سے دو نومبر کو ختم ہو چکی ہے لیکن ان کی سکیورٹی کلیئرنس کو اکتوبر میں واپس لے لیا گیا تھا۔

"ہم اس قانونی معاملے سے باخبر ہیں۔ محکمہ خارجہ اس معاملے پر قانون نافذ کرنے والے اپنے ساتھیوں سے تعاون کر رہا ہے۔ رابن رافیل کی ملازمت ختم ہو چکی ہے اور اب وہ محکمہ خارجہ کی ملازم نہیں ہیں۔"

وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" نے تحقیقات سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا نہ ہی اس کی نوعیت کے بارے میں کچھ بتایا۔

لیکن موقر امریکی اخبار "دی واشنگٹن پوسٹ" جس نے سب سے پہلے اس تحقیقات کے بارے میں خبر دی تھی، کا کہنا ہے کہ یہ انسداد دہشت گردی سے متعلق ہیں اور 21 اکتوبر کو واشنگٹن میں رافیل کے گھر کی تلاشی بھی لی گئی لیکن تاحال ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔

رابن رافیل تیونس میں امریکی سفیر رہ چکی ہیں جس کے بعد وہ جنوبی ایشیا کے امور کے لیے معاون سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دیتی رہی ہیں۔ وہ 30 سالہ سفارتی ملازمت کے بعد 2005ء میں ریٹائر ہوئیں۔ 2009ء میں انھیں کنٹریکٹ پر اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں پاکستان کے لیے غیر فوجی امداد کے معاملات کے نگراں کے طور پر تعینات کیا گیا۔

دو سال بعد وہ واشنگٹن واپس آئیں اور گزشتہ ماہ تک وہ محکمہ خارجہ میں پاکستان اور افغانستان کے خصوصی نمائندے کے دفتر میں کام کرتی رہیں۔

پاکستان میں امریکی سفارتخانے میں ان کی تعیناتی پر مختلف حلقوں کی جانب سے اس بنا پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کسیڈی اینڈ ایسوسی ایٹس نامی فرم کے ساتھ منسلک ہوگئی تھیں جو پاکستان کے لیے لابی کرتی ہے۔

رابن رافیل کے شوہر پاکستان میں امریکی سفیر تھے اور 1988ء میں وہاں ہونے والے طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے جس میں پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاالحق سمیت فوج کے دیگر اعلیٰ ترین افسران بھی سوار تھے۔

XS
SM
MD
LG