رسائی کے لنکس

ایپل کمپنی کا امریکی عدالت کا حکم ماننے سے 'انکار'


ٹم کُک

ٹم کُک

ایک امریکی عدالت نے کہا تھا کہ ایپل کمپنی ایسا سافٹ ویئر تیار کرے جس سے کیلیفورنیا حملے میں دہشت گردوں کے زیرِاستعمال آئی فون میں موجود معلومات تک رسائی ہو سکے۔

آئی فون تیار کرنے والی کمپنی ’اپیل کمپیوٹرز‘ امریکی حکومت کے اس حکم کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ کیلیفورنیا حملے میں دہشت گردوں کے زیرِاستعمال آئی فون میں موجود معلومات تک پہنچنے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کی مدد کرے۔

کیلیوفورنیا کے شہر ساں برنارڈینو میں گزشتہ دسمبر میں ہونے والے اس حملے میں 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

اپیل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک نے بدھ کو کمپنی کے لاکھوں صارفین کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا کہ کمپنی عدالت کے حکم کو چیلنج کرے گی جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک نیا سافٹ ویئر تیار کرے جس سے کمپنی کے اپنے سکیورٹی اقدامات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ٹم کُک نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی اور یہ اپنے ’’اختیارات سے تجاوز‘‘ ہے اور اس سے شہریوں کی نجی رازداری متاثر ہونے کا امکان ہے۔

’’حکومت نے اپیل سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہی صارفین جن میں لاکھوں امریکی شہری بھی شامل ہیں کی معلومات ہیک کرے اور جدید ہیکروں اور سائبر جرائم کرنے والوں سے ان کی حفاظت کے لیے کئی دہائیوں کے دوران تیار کیے گئے سکیورٹی اقدامات کو کمزور بنائے۔‘‘

’’ستم یہ ہے کہ جن انجیئنیروں نے خفیہ کاری کی مضبوط کلیدیں بنائیں انہی انجینیروں کو حکم دیا جائے گا کہ وہ ان حفاظتی اقدامات کو کمزور اور اپنے صارفین کو کم محفوظ بنائیں۔‘‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا کہ صدر براک اوباما اس مسئلے کو ’’اہم قومی ترجیح سمجھتے ہیں‘‘ اور ایف بی آئی اور امریکہ کے محکمہ انصاف کی طرف سے ایپل کو کی گئی درخواست کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

کُک نے کہا کہ ایپل کو دہشت گردوں سے کوئی ہمدردی نہیں اور اسے گزشتہ سال سید رضوان فاروق اور اس کی اہلیہ تاشفین ملک کی طرف سے کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں کیے گئے حملے پر شدید غم و غصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایپل نے ایف بی آئی کو متعلقہ ڈیٹا فراہم کر دیا ہے اور تمام قانونی سمن اور تلاشی کے احکامات کی پاسداری کی ہے اور وفاقی تفتیش کاروں کو اپنے انجینیئرز کی خدمات فراہم کی ہیں۔

کُک نے کہا کہ جو سافٹ ویئر ایف بی آئی مانگ رہی ہے ’’اسے بنانا نہایت خطرناک‘‘ ہوگا۔ اس سافٹ ویئر کی مدد سے کسی بھی آئی فون کو کسی بھی جگہ کھولا جا سکے گا۔

انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ اسے صرف ایک مرتبہ ایک فون کھولنے کے لیے استعمال کیا جائے گا مگر یہ سچ نہیں کیونکہ اگر ایک مرتبہ سافٹ وئیر بنا دیا گیا تو اس طریقے کو بار بار استعمال کیا جائے گا۔ یہ ایسی کلید ہو گی جسے استعمال کر کے لاکھوں تالے کھولے جا سکتے ہیں اور یہ کسی بھی معقول انسان کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

منگل کو ایک جج نے ایپل کمپنی کو حکم دیا تھا کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کو اس ایک آئی فون کی معلومات تک رسائی میں معاونت فراہم کرے جو گزشتہ دسمبر میں سان برنارڈینو میں ہوئے مہلک حملے میں ملوث حملہ آوروں میں سے ایک کے زیر استعمال رہا تھا۔

امریکی مجسٹریٹ شیری پائم نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایپل کمپنی ایسا سافٹ ویئر فراہم کرے جو اس خودکار نظام کو نظر انداز کر سکے جس کے تحت دس بار غلط کوڈ داخل کرنے کی صورت میں تحریری پیغامات حذف ہو جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG