رسائی کے لنکس

غربت کی شرح میں 40 فی صد کی کمی: مطالعاتی رپورٹ


صدر جانسن

صدر جانسن

سنہ 2012کے تازہ ترین امریکی حکومت کی جائزہ رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً پانچ کروڑ امریکی غربت کا شکار ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ، ملک کی 30 کروڑ کی آبادی میں سے 16 فی صد افراد مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں

’غربت کے خلاف جنگ‘ کی 50ویں سالگرہ کی مناسبت سے، امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اِس جنگ میں، بقول اُن کے، ملک محض جزوی طور پرفتحیاب ہوا ہے۔

مسٹر اوباما نے بدھ کے دِن کہا کہ اِس جنگ کی ابتداٴ 1964ء میں صدر لینڈن جانسن نے کی، جِس کے نتیجے میں، ایسے عمر رسیدہ امریکی جو غربت کا شکار تھے اُن کے حالات میں خاطرخواہ بہتری آئی، جِنھیں اپنے طبی بِلوں کی ادائگی میں مدد فراہم کرنے کے لیے حکومت نے صحت کے بیمے کی سہولت دی۔

اُنھوں نے ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا، جِس کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ 1960ء کی دہائی کے بعد غربت کی شرح میں تقریباً 40 فی صد کی کمی آئی ہے۔

سنہ 2012کے تازہ ترین امریکی حکومت کی جائزہ رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً پانچ کروڑ امریکی غربت کا شکار ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ، ملک کی 30 کروڑ کی آبادی میں سے 16 فی صد افراد مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

آبادی سے متعلق چند ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار پانچ دہائیاں قبل کے شمار سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔

سرکاری طور پر امریکہ میں غربت کی لکیر اُسے کہتے ہیں جب چار افراد کے ایک خاندان کی کُل سالانہ آمدن 23،283 ڈالر ہوتی ہے۔ تاہم، خاندان کے سائز اور مقام کے اعتبار سے یہ تشریح مختلف ہو سکتی ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ یہ کامیابی ہماری بہتر توقعات کی غماز ہے، ہم ایسے لوگ ہیں جو ہر انسان کی توقیر اور صلاحیتوں کے قدردان ہیں۔

تاہم، مسٹر اوباما نے کہا کہ غربت کے خلاف ملکی جنگ ’ابھی ختم نہیں ہوئی‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اب بھی بہت سے بچےغربت کے ماحول میں جنم لیتے ہیں، جب کہ بہت ہی کم ایسے ہوتے ہیں جو غربت سے نکلنے کی دسترس رکھتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG