رسائی کے لنکس

داعش کے خلاف 'حالت جنگ' میں ہیں: امریکی حکام


وائٹ ہاؤس کے ترجمان ارنیسٹ

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ارنیسٹ

اسلامیہ نامی دہشت گرد گروپ کے شدت پسندوں نے شام اور عراق کے مختلف حصوں میں لڑائی شروع کر رکھی ہے جب کہ یہاں اغوا اور قتل و غارت گری میں بھی ملوث ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ملک "داعش کے خلاف اسی طرح سے حالت جنگ میں ہے جس طرح وہ دنیا بھر میں القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف برسر پیکار ہے۔"

صدر براک اوباما ایک سے زائد مرتبہ دولت اسلامیہ نامی دہشت گرد گروپ کو سرطان سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے "تباہ و برباد" کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے بقول انھوں نے امریکی لڑاکا طیاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس پر بمباری کریں۔

اس گروپ کے شدت پسندوں نے شام اور عراق کے مختلف حصوں میں لڑائی شروع کر رکھی ہے جب کہ یہاں اغوا اور قتل و غارت گری میں بھی ملوث ہیں۔

اعلیٰ امریکی عہدیدار گو کہ یہ کہنے میں احتیاط برتتے رہے کہ امریکہ اس گروپ کے ساتھ جنگ میں ہے۔ لیکن جمعہ کو وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان جاش ارنیسٹ نے صدر کی اس گروپ کے خلاف کوششوں کی تشریح کرتے ہوئے کہا۔

"اسی طرح سے جیسے دنیا بھر میں ہم القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، ہم داعش کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں۔"

پینٹاگون اور محکمہ خارجہ کی ترجمانوں کی طرف سے بھی جاری ہونے والے بیانات میں پہلی بار ان دہشت گردوں گروپ کے خلاف امریکہ کی زیرقیادت کارروائی کے لیے جنگ کا لفظ استعمال کیا گیا۔

امریکہ کے خفیہ ادارے کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں موجود شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد 20 ہزار سے 31500 تک ہے۔

سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ’سی آئی اے‘ کی طرف سے اس سے قبل یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ’دولت اسلامیہ‘ کے جنگجوؤں کی تعداد 10 ہزار تک ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG