رسائی کے لنکس

ضرورت پڑی تو شام پر مزید حملے بھی کرسکتے ہیں: امریکہ


پینٹاگون کی جانب سے جاری اس سیٹلائٹ تصویر میں شامی ہوائی اڈے پر میزائل حملوں سے ہونے والے نقصان کی نشان دہی کی گئی ہے

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ شام میں مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔

جمعے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے گزشتہ رات شامی فوج کے ایک ہوائی اڈے پر امریکہ کے میزائل حملوں کا دفاع کیا۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر امریکہ اب مزید خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا اور ان ہتھیاروں کو روکنا امریکہ کے اپنے "وسیع تر مفاد" میں ہے۔

نکی ہیلی نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ رات "بہت ہی نپا تلا قدم" اٹھا یا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ان کا ملک شام میں مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ مزید کارروائیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اور ان کے اتحادی اب تک شام کے بحران کے سیاسی حل کی کوششوں کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری ان کوششوں کو آگے بڑھائے۔

نکی ہیلی نے بشار الاسد کے دو بڑے اتحادیوں – شام اور ایران –پر زور دیا کہ وہ شامی حکومت کا محاسبہ کریں اور جنگ بندی کی شرائط پر اس سے عمل کرائیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی شام پر امریکی حملے پر غور کے لیے ہونے والے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی شام پر امریکی حملے پر غور کے لیے ہونے والے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کونسل کے رکن ملک بولیویا کی درخواست پر شامی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے بعدپیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کے لیے بلایا گیا تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں روس کے نائب سفیر ولادی میر سیفرونکوونے امریکی حملے کو "کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے اس پر شدید احتجاج کیا۔

روسی سفیر نے خبردار کیا کہ علاقائی اور بین الاقوامی استحکام پر امریکی حملے کے خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ولادی میر سیفرونکوو نے شام کے تنازع کے سیاسی حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے امریکی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے میزائل حملے کےبعد اس طرح کے مطالبات "منافقت" ہیں۔

شامی ہوائی اڈے پر میزائل حملوں کا حکم صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے پر مبینہ طور پر شامی فوج کے کیمیائی حملے کے ردِ عمل میں دیا تھا ۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ ہوائی اڈہ شام کے شمالی صوبے ادلب کے علاقے خان شیخون میں کیے جانے والے کیمیائی حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور علاقے پر کیمیائی بم برسانے والے شامی فضائیہ کے جہاز اسی ہوائی اڈے سے اڑے تھے۔

رواں ہفتے کیے جانے والے اس حملے میں 85 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ زہریلی گیس سے متاثرہ جب کہ عورتوں اور بچوں سمیت 350 سے زائد شامی شہری شام اور ترکی کے مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے جوابی کارروائی کی ہدایات کے بعد بحیرہ احمر میں تعینات امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں نے جمعرات کی شام، شام کے مغربی صوبے حمص میں واقع شیرات نامی اس ہوائی اڈے پر 59 ٹام ہاک میزائل برسائے تھے۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے مطابق میزائلوں کا ہدف ہوائی اڈے پر کھڑے جنگی جہاز، اڈے کی تنصیبات، اسلحے کے گودام، مورچے، فضائی دفاعی نظام اورشامی فوج کے زیرِ استعمال دیگر عمارتیں تھیں۔

پینٹاگون حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فوج حملے کا نشانہ بننے والے ہوائی اڈے کو کیمیائی ہتھیار ذخیرہ کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق حملے میں انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کی پوری کوشش کی گئی اور روس کے ساتھ کسی براہِ راست تصادم سے بچنے کے لیے روسی فوج کو حملوں سے پیشگی آگاہ کردیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG