رسائی کے لنکس

امریکہ میں کساد بازاری کا سب سے زیادہ نقصان اقلیتوں کو پہنچا: مطالعاتی جائزہ


امریکہ میں کساد بازاری کا سب سے زیادہ نقصان اقلیتوں کو پہنچا: مطالعاتی جائزہ

امریکہ میں کساد بازاری کا سب سے زیادہ نقصان اقلیتوں کو پہنچا: مطالعاتی جائزہ

امریکی حکومت کے جاری کردہ تازہ اعدادوشمارسے ظاہر ہوا ہے کہ معیشت کے حالیہ منفی رجحان کی بنا پر اس وقت سفید فام امریکیوں اور اقلیتوں کے درمیان دولت کا فرق گذشتہ 25 سال کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے مطالعاتی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت کے منفی رجحان کی سب سے زیادہ قیمت ہسپانوی نسل کے خاندانوں کو چکانی پڑی ہےاور 2005ء سے 2009 ء کے عرصے کے دوران ان کی اوسط دولت میں دوتہائی کی کمی واقع ہوئی ۔ جب کہ سیاہ فام گھرانوں کی اوسط دولت نصف رہ گئی اور سفید فام امریکیوں کی اوسط دولت میں محض 16 فی صد کی کمی ہوئی۔

ماہرین معاشیات کے مطابق دولت سے مراد قرضے چکانے کے بعد باقی بچ جانے والے اثاثے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2009ء میں ایک سفید فام امریکی کے اوسط اثا ثےایک لاکھ 13 ہزار ڈالر، ہسپانوی باشندوں کے اوسط اثاثے 6325 ڈالر اور سیاہ فاموں کے اوسطاً 5700 ڈالر کے لگ بھگ تھے۔

مطالعاتی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ معاشی کسادبازاری کاسب سے زیادہ اثر اقلتیوں پر ہوا کیونکہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد اپنی دولت گھروں کی خریدپر صرف کرتے ہیں جب کہ سفیدفام اپنی بچتیں اسٹاک مارکیٹ میں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

جائزے کے مطابق 2005ء سے 2009ء کی اقتصادی کساد بازاری سے جائیدادوں اور اسٹاک مارکیٹ ، دونوں شعبوں کو نقصان پہنچا مگر اسٹاک مارکیٹ نے خود کو تھوڑے ہی عرصے میں بحال کرلیا جب کہ مکانوں کی قیمتیں ابھی تک ماضی کے مقابلے میں کم چلی آرہی ہیں۔

جائزے میں کہا گیا ہے ہسپانوی نسل کی آبادی کو معاشی لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے زیادہ تر گھر کیلی فورنیا، فلوریڈا، نیویڈا اور ایری زونا میں ہیں جہاں کساد بازاری سے جائیداوں کی قیمتیں سب سے زیادہ کم ہوئیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG