رسائی کے لنکس

حزب اسلامی کے ایک سینیئر رہنما قریب الرحمان سعید نے وائس آف امریکہ کے ایک ریڈیو پروگرام کے دوران ان افغان خاندانوں سے معذرت کی جو ملک میں خانہ جنگی کے دوران متاثر ہوئے۔

افغانستان کی حکومت اور ایک عسکریت پسند گروپ "حزب اسلامی" کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا امریکہ نے خیر مقدم کرتے ہوئے افغانستان کے تنازع کے پرامن حل کی طرف اسے ایک پیش رفت قرار دیا ہے۔

جمعرات کو افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمار اور حزب اسلامی کی طرف سے مذاکرات کی سربراہی کرنے والے کریم امین نے کابل میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

کابل میں امریکی سفارتخانے سے جاری ایک بیان میں اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ امریکہ اس افغان امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا جس کے نتیجے میں مسلح گروہ تشدد ترک کریں، بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں سے روابط ختم کریں اور خواتین و اقلیتوں کے تحفظ سمیت ملک کے آئین کو تسلیم کریں۔

حنیف اتمار کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت افغان تنازع کو پرامن انداز میں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔

"ہم نے اپنے عزم کا اظہار کر دیا اور میں طالبان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ مخلص ہیں تو اب وقت ہے کہ وہ امن مذاکرات کی میز پر آئیں۔۔۔لڑائی اور تشدد ختم کریں، خود کو پاکستان اور غیر ملکی دہشت گرد گروپوں کے اثرورسوخ سے آزاد کریں اور افغانستان کے آئین کو تسلیم کریں۔"

ان کے بقول حکومت طالبان کو بھی ایسی ہی رعایت کی پیشکش کرنے کے لیے تیار ہے جو حزب اسلامی کو دی گئی۔

حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کو امریکہ عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے اور ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ 1990ء کی دہائی میں ان کے گروپ نے افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔

XS
SM
MD
LG