رسائی کے لنکس

امریکہ کا بھارت کے ’تاریخی قومی انتخاب‘ کا خیر مقدم


وائٹ ہاؤس ترجمان، جے کارنی نے بھارتی عوام کو مبارکباد دی ہے، جسے اُنھوں نے تاریخی قومی انتخابات قرار دیا، ’جس دوران، ملک کی انتخابی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹروں نے آزادانہ اور منصفانہ حق رائے دہی استعمال کیا‘

وائٹ ہاؤس نے نریندرا مودی اور اُن کی ہندو نواز بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کو مبارک باد دی ہے، جن کی انتخابی کامیابی کا جمعے کو اعلان کیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ متوقع وزیر اعظم کے امریکہ آنے پر اُن کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نامہ نگار، وکٹر بیتے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بی جے پی کی بھاری اکثریت کے ساتھ انتخابی کامیابی کے نتیجے میں امریکہ بھارت تعلقات میں بہتری کی توقع ہے، ایسے میں جب نئی حکومت ملک کی معاشی ترقی کو بڑھاوا دینے کی کوشش کرے گی۔

وائٹ ہاؤس ترجمان، جے کارنی نے بھارتی عوام کو مبارکباد کرتے ہوئے، اِنہیں ’تاریخی قومی انتخاب‘ قرار دیا، جس دوران ملک کی انتخابی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹروں نے آزادانہ اور منصفانہ طور پر حق رائے دہی استعمال کیا۔

بھارت کے انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک کے 81 کروڑ 50 لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 66 فی صد نے پولنگ میں حصہ لیا۔

کارنی کے بقول، ’ہم نریندرا مودی اور بی جے پی کو اِس تاریخی انتخاب میں اکثریتی نشستیں جیتنے پر مبارک باد دیتے ہیں۔ حکومت تشکیل پانے پر، مشترکہ جمہوری اقدار کی بنیاد پر ہمارے مضبوط باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے ہم وزیر اعظم اور کابینہ کے ساتھ قریبی روابط کی توقع رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی، عہدے کی 10 سالہ میعاد کے دوران، دوطرفہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے پر، ہم وزیر اعظم (من موہن) سنگھ کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے‘۔

جمعے کو امریکی صدر براک اوباما نے بھارت کے آئندہ وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی، اور امریکہ کے دورے کی دعوت دی۔

مسٹر سنگھ کی حکمراں ’انڈین نیشنل کانگریس پارٹی‘ کو الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ انتخابات پانچ ہفتوں تک جاری رہے، جس میں بی جے پی نے 30 سالہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ علاقائی رہنماؤں کے ساتھ اتحاد تشکیل دیے بغیر وہ حکومت تشکیل دے سکتے ہیں‘۔

پچھلے 10 برسوں سے کانگریس پارٹی نے بھارت کی قیادت کی ہے، لیکن اُسے بد عنوانی کے چوٹی کے اسکینڈلوں، افراط زر اور معاشی افزائش کی عدم موجودگی کے حالات سے سابقہ رہا۔

سنہ 2002سے مسٹر مودی متنازع بنے رہے ہیں، جس کا سبب گجرات کی مغربی ریاست میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات تھے، جن میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

مسٹر مودی 2001ء سے اس ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ 2005ء میں اُنھیں امریکہ آنے کے لیے ویزا جاری کیے جانے سے انکار کیا گیا۔ بھارتی عدالت عظمیٰ تشدد کے واقعات کو ابھارنے کے الزامات سے اُنھیں بری قرار دے چکی ہے۔

رفیق ڈوسانی، ’رینڈ کارپوریشن‘ میں جنوبی ایشیا سے متعلق تجزیہ کار ہیں۔

ممبئی میں گفتگو کرتے ہوئےاُنھوں نے کہا کہ، بھارت کی سبک دوش ہونے والی مخلوط حکومت کے دور میں تعلقات میں آنے والا بگاڑ اب ختم ہونے کو ہے، اور یہ کہ نئی تبدیلی بھارت امریکہ تعلقات کے لیے سودمند ثابت ہوگی۔

جہاں تک ان تعلقات کے علاقائی اور سیاسی تناظر کا تعلق ہے، ڈوسانی کے خیال میں بھارت جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان اور آسٹریلیا کی طرز پر، ایشیا میں ایک متحرک جمہوریت بن کر اُبھرے گا۔

اُنھوں نے اس بات کی توقع کا بھی اظہار کیا کہ بھارت چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور اپنی بات منوابے پر اصرار کرے گا، لیکن، بقول اُن کے، یکا یک ایسا نہیں ہوگا۔

ڈوسانی نے کہا ہے کہ امکان اس بات کا ہے کہ مسٹر مودی نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد، ساتھ دینے کی موجودہ بھارتی پالیسی کو جاری رکھیں گے، جس کے باعث اُس کے اپنے حریف، پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی پیدا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG