رسائی کے لنکس

شام میں سعودی فورسز بھیجنے کی پیشکش کا خیر مقدم


یمن میں تعینات سعودی فورسز

یمن میں تعینات سعودی فورسز

سعودی فوجیوں کی ممکنہ تعداد، تعیناتی کی تاریخ یا اہداف کے بارے میں بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ سعودی فورسز بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہوں گی اور یہ "ایسے ہی کام کریں گی جیسے بین الاقوامی اتحاد ماضی میں کرتا رہا ہے۔"

امریکہ نے شام میں ممکنہ طور پر زمینی کارروائیوں کے لیے اپنی اسپیشل فورسز کی شمولیت کی سعودی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے پیر کو واشنگٹن میں کہا کہ ان کا ملک امریکہ کی زیر قیادت زمینی کارروائیوں کے لیے اپنی اسپیشل فورسز بھیجنے کو تیار ہے۔

"اس سلسلے میں بات چیت ہو رہی ہے جو کہ شام میں امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے تحت داعش کے خلاف کارروائی کرے اور سعودی عرب نے ایسی کسی کارروائی میں اپنی اسپیشل فورسز بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔"

تاہم انھوں نے سعودی فوجیوں کی ممکنہ تعداد، تعیناتی کی تاریخ یا اہداف کے بارے میں بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ سعودی فورسز بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہوں گی اور یہ "ایسے ہی کام کریں گی جیسے بین الاقوامی اتحاد ماضی میں کرتا رہا ہے۔"

چار ماہ سے شام میں روس کی فضائی کارروائیوں سے شام کے صدر بشار الاسد کو قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ یہ ملک گزشتہ پانچ خانہ جنگی کا شکار ہے جس کی وجہ سے اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک اور ایک کروڑ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما شام میں امریکی زمینی فوج سے متعلق بات کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں لیکن وہ داعش کے خلاف لڑائی میں مشرق وسطیٰ کے رہنماوں نے زیادہ معاونت کرنے کا کہتے آئے ہیں۔

سعودی عرب خطے میں ایک اور خانہ جنگی پر بھی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ تقریباً ایک سال سے اپنے پڑوسی ملک یمن میں سعودی زیرقیادت اتحادی فورسز ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG